شمسی طیارہ بحرِ اوقیانوس عبور کر کے سپین پہنچ گیا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شمسی توانائی کی مدد سے اڑنے والا طیارہ سولر امپلس 2 کامیابی سے بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے بعد سپین کے شہر سیویل میں اتر گیا ہے۔

یہ طیارہ پیر کو امریکی شہر نیویارک سے روانہ ہوا تھا اور تقریباً تین دن کی پرواز کے بعد جمعرات کی صبح سیویل کے ہوائی اڈے پر اترا۔

یہ دنیا کے گرد چکر لگانے کی مہم کے دوران اس طیارے کا طویل ترین سفر تھا۔

نیویارک سے سیویل کا سفر طیارے کے عالمی سفر کا 15واں مرحلہ تھا۔

بی بی سی کے سائنسی امور کے نامہ نگار جوناتھن آموس کے مطابق ابتدائی طور پر بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کی مہم کا اختتام پیرس میں ہونا تھا تاہم خراب موسم کی پیشنگوئی کی وجہ سے طیارے کو سپین لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SOLAR IMPULSE
Image caption بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے مرحلے میں برٹرینڈ پیکارڈ اور آندرے بورشبرگ دونوں نے طیارہ اڑایا

اب اس مشن کے منتظمین طیارے کو ابوظہبی تک پہنچانے کے لیے راستے کا تعین کریں گے۔

سولر امپلس نے اپنا سفر گذشتہ سال مارچ میں ابوظہبی سے ہی شروع کیا تھا۔ تاہم بیٹریوں میں خرابی کی وجہ سے اسے کافی مدت ورکشاپ میں گزارنا پڑی تھی۔

طیارے کے پائلٹ برٹرینڈ پیکارڈ جو پیشے کے لحاظ سے ایک ماہرِ نفسیات ہیں دنیا کے گرد 35 ہزار کلومیٹر کا سفر سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت آندرے بورشبرگ کے ہمراہ کر رہے ہیں۔

اب تک کے سفر میں یہ ایشیا، مشرقِ بعید اور امریکہ سے ہوتا ہوا یورپ پہنچا ہے اور اگلے مرحلے میں طیارہ بحیرۂ روم کو عبور کرے گا۔

اسی بارے میں