ریفرینڈم کے بعد ٹیک کمپنیاں تشویش کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو خیرباد کہنے کے فیصلے کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیاں مستقبل کے بارے میں غیریقینی کیفیت کا شکار ہو گئی ہیں۔

ریفرینڈم کے نتائج سامنے آتے ہی برٹش ٹیلی کام، ٹاک ٹاک اور سیج جیسی کمپنیوں کے حصص میں کمی دیکھنے میں آئی۔

برطانیہ ایک عرصے سے معیشت کی نمو کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کردار پر زور دیتا رہا ہے۔ ایک زمانے میں برطانوی کمپنیوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ امریکی سلیکون ویلی کے ساتھ مقابلہ کر سکتی ہیں۔ اسی لیے لندن کے ایک علاقے کو ’سلیکون چوک‘ کا نام دیا گیا تھا۔

رواں سال کے شروع میں ٹیک سٹی نے خبر دی تھی کہ ساڑھے 15 لاکھ کے لگ بھگ برطانوی ڈیجیٹل کمپنیوں میں کام کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ڈیجیٹل معیشت برطانیہ کی مجموعی معیشت کے مقابلے پر 33 فیصد زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

لیکن اب یورپی یونین چھوڑنے کا ان کمپنیوں پر کیا اثر پڑے گا؟

لندن میں قائم ڈیجیٹل ایجنسی بیٹن ہال کے بانی ڈریو بینوی کہتے ہیں: ’مجھے تشویش ہے کہ مقامی منڈیاں اب سست ہو جائیں گی۔ حالیہ برسوں میں لندن بڑی کمپنیوں کے لیے ٹیکنالوجی کے مرکز کے روپ میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ تمام بڑی کمپنیوں کے لندن میں دفاتر ہیں۔‘

بینوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تشویش کی وجہ یہ ہے کہ ان کی کمپنی کے بیشتر عملے کا تعلق ای یو کے ملکوں سے ہے اور وہ برطانیہ میں ای یو ویزے پر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وہ کہتے ہیں: ’غیریقینی صورتِ حال مشکل پیدا کرتی ہے۔‘

ایک ہزار برطانوی اور یورپی کمپنیوں سے کیے جانے والے سروے کے مطابق ان میں سے صرف ایک چوتھائی کے پاس برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کسی قسم کا ٹھوس منصوبہ موجود ہے۔

تھیو پریسٹلی سکاٹش ٹیکنالوجی گرو ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اکثریت نے لندن میں دفاتر کھول رکھے ہیں۔’بریگزٹ‘ کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان کا یہ فیصلہ کس حد تک درست تھا۔‘

ایک بیان میں برطانوی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والی تجارتی تنظیم ٹیک یو کے نے ریفرینڈم کے نتائج پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’یورپی یونین کے فوائد کے بغیر برطانیہ کو کامیاب ہونے کے لیے سخت محنت کرنا ہو گی۔‘

اس کے علاوہ یورپی یونین کی فنڈنگ کا مسئلہ بھی ہے۔ بہت سی برطانوی کمپنیوں کو مشترکہ تحقیقی منصوبوں پر یورپی یونین کے وسائل سے فوائد ملتے ہیں۔ اب ان منصوبوں کا مستقبل بھی ڈانواں ڈول نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں