فالج سے صحت یابی کے لیے تاش کا کھیل مفید

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption روایتی تاش کے کھیل سے جسم کے بالائی حصے میں جو جنبش ہوتی ہے وہ سٹروک کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوا ہے

کینیڈا میں سائنسی محققین کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ سنیپ جیسے تاش کے عام کھیل فالج یا سٹروک کے مریضوں کی بحالی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ایسے کھیل کھیلنے سے مریضوں کی ’موٹر سکِلز‘ میں بہتری آتی ہے۔

محققین کے مطابق جینگا، بنگو یا پھر ویئ جیسے گیمنگ کنسول پر کھیلنا بھی یکساں فائدہ پہنچاتا ہے۔

انھوں نے طبی جریدے لینسٹ نیورولوجی کو بتایا کہ ’موٹر سکِلز‘ کی بحالی کے لیے جو کام کرائے جاتے ہیں وہ اس وقت تک بےسود ہو سکتے ہیں جب تک کہ وہ زیادہ شدت کے حامل، بار بار کیے جانے والے اور ہاتھوں اور بازوؤں کوگھمانے والے نہ ہوں۔

سائنسدانوں نے اپنی یہ تحقیق یہ جاننے کے لیے کی کہ فالج کے مریضوں کی بحالی کے لیے ورچوئل گیمنگ کا جو استعمال ہو رہا ہے کیا وہ ان روایتی کھیلوں سے بہتر ہے جن میں اوپری دھڑ حرکت کرتا ہے۔

تحقیق میں 141 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جو حال میں ہی فالج کا شکار ہوئے تھے اور انھیں ایک یا دونوں ہاتھوں اور بازوؤں کو حرکت دینے میں دقت کا سامنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سٹروک کے مریضوں کے لیے گیمنگ کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے

خیال رہے کہ سٹروک اس وقت ہوتا ہے جب خون جم جانے یا بہنے کے سبب دماغ کے بعض حصوں تک نہیں پہنچ پاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں چہرے کے عضلوں کا متاثر ہونا، بات کرنے میں مشکلات آنا اور بازوؤں کا سن ہونا یا ان کا کمزور ہو جانا شامل ہے۔

تحقیق میں شامل کیے جانے والے مریضوں میں سے تقریباً نصف مریضوں کو ویئي ری ہیب ( کنسول گیمنگ کے ذریعے صحت کی بحالی کے پروگرام) کے لیے چن لیا گیا جب کہ باقیوں سے کہا گیا کہ وہ تاش جیسی روایتی تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔

ان تمام مریضوں کو صحت یاب ہونے کی عام سہولیات یکساں فراہم کی جاتی رہیں اور اس کے علاوہ اضافی کام کے طور پر انھیں 15 دن تک گیمنگ یا تاش کھیلنے کے لیے ایک گھنٹے دیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ گیمنگ اور تاش کے روایتی کھیل دونوں یکساں طور پر کارگر رہے

دو ہفتے اور چار ہفتے کے اختتام پر دونوں گروپس میں موٹر سکِلز میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گيا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دونوں گروپس نے یکساں طور پر بہتری کا مظاہرہ کیا۔

بہرحال تحقیق سے یہ بات سامنے نہیں آئی کہ معمول کی نگہداشت سے مریضوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔

دوسری تحقیق میں کہا گيا ہے کہ مزید تھیراپی ان کے لیے مفید ہے۔

اسی بارے میں