زیکا وائرس کی ویکسین چوہوں میں ’کامیاب‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زیکا وائرس مچھر سے پھیلتا ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک تجرباتی ویکسین کی واحد خوراک چوہوں میں زیکا وائرس کے خلاف موثر ثابت ہوئی ہے، جس سے امید پیدا ہو گئی ہے کہ ایسی ہی ویکسین انسانوں کے لیے بھی تیار کی جا سکتی ہے۔

امریکی ٹیم کی یہ تحقیق جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج ’حیرت انگیز‘ ہیں اور اس سے مزید تحقیق میں تیزی آئے گی۔

چند ماہ کے اندر اندر انسانوں میں تجربات شروع کر دیے جائیں گے۔

٭ زیکا کی ویکسین میں برسوں لگ سکتے ہیں

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ نتائج مثبت بھی ثابت ہوں تب بھی وہ لوگ جنھیں سب سے زیادہ خطرہ ہے، یعنی حاملہ خواتین، ان تک ویکسین پہنچنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

زیکا وسطی اور جنوبی امریکہ میں پھیل رہا ہے، اور حال ہی میں اس کے مریض افریقہ میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

یہ وائرس مچھر سے منتقل ہوتا ہے اور اگر یہ کسی حاملہ خاتون کو ہو جائے تو بچے میں پیدائشی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اگر کوئی حاملہ خاتون زیکا سے متاثر ہو جائے تو بچے میں پیدائشی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں جن میں سر کا چھوٹا ہونا شامل ہے

امریکہ کے والٹر ریڈ آرمی انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اور دوسرے اداروں سے وابستہ سائنس دانوں نے چوہوں پر دو اقسام کی ویکسین کا تجربہ کیا۔ ان میں سے ایک میں وائرس کا جینیاتی مواد شامل تھا، جب کہ دوسری میں زیکا وائرس کی ایک بےضرر نقل شامل تھی۔

دونوں ویکسینیں موثر ثابت ہوئیں اور تحقیق میں شامل ہر چوہا وائرس سے محفوظ رہا۔ اس کے مقابلے پر وہ چوہے جنھیں ویکسین نہیں دی گئی تھی، جب انھیں زیکا وائرس دیا گیا تو وہ اس سے متاثر ہو گئے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ بےضرر وائرس والے طریقے پر توجہ مرکوز کرے گا کیوں کہ اکثر ویکسینیں اسی طریقے پر کام کرتی ہیں۔

مستقبل میں کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہو گا کہ یہ ویکسین انسانوں میں کس قدر محفوظ ہے اور اس سے حاصل ہونے والی مدافعت کتنے عرصے تک برقرار رہتی ہے۔

محقق ڈاکٹر ڈین باروش کہتے ہیں: ’ابھی بہت سی چیزیں نامعلوم ہیں۔ (تاہم) ہمیں امید ہے کہ اس خبر سے زیکا کے خلاف ویکسین تیار کرنے کی مہم میں تیزی آ جائے گی۔‘

دوسرے تحقیق کار بندروں میں زیکا ویکسین کی تیاری کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں