ماں کو بیٹی کے منجمد بیضے استعمال کرنے کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

برطانیہ میں ایک خاتون کو عدالت نے اجازت دے دی ہے کہ وہ اپنی آنجہانی بیٹی کے منجمد کیے ہوئے بیضے کو استعمال کر کے اپنے نواسے کو دنیا میں لا سکے۔

ساٹھ سالہ خاتون نے برطانوی ریگولیٹرز کی جانب سے اپنی بیٹی کے منجمد کیے ہوئے بیضے امریکہ کے کلینک لے جانے کی اجازت نہ دینے کے خلاف اپیل کی تھی۔

ان کی بیٹی کا انتقال 2011 میں ہوا تھا اور مرنے سے قبل بیٹی نے اپنی ماں سے کہا تھا کہ وہ اس کے (بیٹی) کے بچوں کو جنم دے۔

ماں گذشتہ سال ہائی کورٹ میں کیس ہارگئی تھیں۔ اس کے بعد ان کو فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق ملا۔

برطانوی فرٹیلیٹی ریگولیٹر نے 2014 میں کہا تھا کہ منجمد کیے ہوئے بیضے جو لندن میں سٹور کیے ہوئے ہیں والدہ کو نہیں دیے جا سکتے کیونکہ بیٹی نے مرنے سے قبل تحریری اجازت نامہ نہیں دیا تھا۔

تاہم حالیہ قانونی جنگ میں والدہ کے وکلا نے جج کو بتایا کہ والدہ اپنی بیٹی کی خواہش پوری کرنا چاہتی ہیں اور اپنے نواسے کو جنم دے کر پالنا چاہتی ہیں۔

والدہ کی خواہش ہے کہ وہ منجمد کیے ہوئے بیضےامریکہ کے کلینک لے کر جائیں۔

والدہ کی وکیل جینی رچرڈز نے عدالت سے کہا کہ اگر عدالت نے اجازت نہ دی تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی موکلا کی بیٹی کے منجمد کیے ہوئے بیضے پڑے پڑے خراب ہو جائیں گے۔

برطانوی فرٹیلیٹی ریگولیٹر نے والدہ کی جانب سے کی گئی اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق تحریر اجازت نامہ ضروری ہے۔

اسی بارے میں