زیکا سے متاثرہ بچے ’بظاہر نارمل ہو سکتے ہیں‘

Image caption زیکا وائرس اور نومولود بچوں کےغیر معمولی طور پر چھوٹے سروں کے درمیان تعلق ہے

برازیل میں بچوں پر کی جانے والی ایک بڑی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زیکا وائرس کی وجہ سے جو بچے دماغی خرابی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ممکن ہے کہ وہ بالکل ٹھیک یا نارمل دکھائی دیں۔

زیکا وائرس اور نومولود بچوں کےغیر معمولی طور پر چھوٹے سروں کے درمیان تعلق ہے۔

تاہم لینسٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دماغی معذوری کے شکار بچوں میں سے ہر پانچویں بچے کو نارمل کے زمرے میں رکھا جا سکتا تھا۔

٭ زیکا اندازے سے کہیں زیادہ خطرناک: ماہرین

٭ زیکا وائرس کی ویکسین چوہوں میں ’کامیاب‘

برازیل کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ زیکا وائرس نومولود بچوں کے دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

زیکا وائرس زیادہ تر ایسے لوگوں میں پایا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر میں اس وائرس کی علامات نہیں تھیں۔

بعض کیسز میں بچے مر جاتے ہیں اور جو بچ جائیں انھیں ذہنی معذوری اور نشو و نما میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

محققین نے برازیل میں گذشتہ فروری تک رپورٹ ہونے والے تمام کیسز کا جائزہ جس سے معلوم ہوا کہ اس وائرس کا خطرہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو سوچا گیا تھا۔

حاملہ خواتین میں حمل کے آخری دنوں میں جلد پر دھبے ہونا زیکا وائرس کی بنیادی علامت ہے اور ایسی صورتحال میں ممکن ہے کہ بچہ نارمل سائز کے سر کے ساتھ پیدا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Associated Press
Image caption برازیل کے محققین نے خبردار کیا ہے کہ زیکا وائرس نومولود بچوں کے دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے

یونیورسٹی فیڈرل ڈی پیلوٹس کے محقق پروفیسر سیزر وکٹوراکا کہنا ہے کہ ’ہماری تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حمل کے دوران زیکا وائرس سے متاثر ہونے والی خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں ذہنی معذوری اور چھوٹے سر کی شکایت ہوتی ہے، جبکہ دیگر میں معمول کے مطابق سروں کے ساتھ معذوری ہوتی ہے اور بعض متاثرہ نہیں ہوتے۔‘

محققین کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ زیکا سے متاثرہ حاملہ خواتین میں سے ہر تیسری خاتون کی جلد پر کوئی دھبہ نہیں پایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمال مشرقی برازیل میں زیکا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کے چھ سے نو ماہ بعد 2015 کے آخر میں غیر معمولی طور پر چھوٹے سروں کے کیسز میں اضافہ ہوا۔

لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر جمی وائٹورتھ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ یہ وائرس سوچ سے زیادہ باعث تشویش حد تک پہنچ چکا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’زیکا وائرس کی قابل اعتماد تشخیص میں کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ جاننا انتہائی مشکل ہے کہ کون سی خاتون متاثرہ ہیں۔‘

اسی بارے میں