’جونو‘ مشتری کے قریب پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption جونو کو مشتری کے شدید حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی ٹینک کی طرح مضبوط بنایا گیا ہے

امریکی خلائی ادارے ناسا کا خلائی جہاز ’جونو‘ تیزی سے مشتری کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یہ جہاز جمعرات کو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے کی کششِ ثقل کی زد میں آ کر اس کے گرد مدار میں داخل ہو جائے گا۔

اس مقصد کے لیے جہاز کو رفتار کم کرنے کے لیے بالکل درست وقت پر بالکل درست طریقے سے بریک لگانا ہو گی۔

اگر یہ مشن کامیاب رہا تو جونو اگلے ڈیڑھ برس تک مشتری کے گھنے بادلوں کے آرپار جھانک کر نیچے کے حالات کا پتہ چلانے کی کوشش کرے گا۔

اگر جہاز کا انجن بروقت اور مناسب حد تک رفتار کم کرنے میں ناکام رہا تو ایک ارب دس کروڑ ڈالر لاگت والا یہ جہاز مشتری کے قریب سے سیدھا آگے گزر کر خلا کی اتھاہ وسعت میں کھو جائے گا۔

اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو جونو مشتری کی ساخت کا پتہ چلانے کی کوشش کرے گا۔ اس سے پہلی بار یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا مشتری کا کوئی ٹھوس مرکز بھی ہے یا پھر تمام کا تمام سیارہ گیسوں پر مشتمل ہے۔

اس کے علاوہ یہ مشتری کے مشہور سرخ دھبے کی نوعیت کا پتہ بھی چلائے گا۔ یہ دراصل ایک عظیم الجثہ طوفان ہے جو صدیوں سے برپا ہے اور اس کا حجم زمین کے رقبے سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

ریاست ٹیکسس کے ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مرکزی تحقیق کار سکاٹ بولٹن کہتے ہیں کہ وہ بڑی بےصبری سے جونو کے مشن کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں، تاہم انھیں اس بات کی تشویش بھی ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ نہ ہو جائے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’مشتری کی ہر چیز بڑی ہے۔۔۔ اس کی ہر چیز میں لفظ ’ترین‘ ڈالنا پڑتا ہے۔ اس کی تابکاری کسی بھی سیارے سے سخت ترین ہے۔ اس کا مقناطیسی میدان طاقتور ترین ہے، اور یہ ناقابلِ یقین تیزی سے گھوم رہا ہے۔

’ہمیں اس ماحول کا مقابلہ کرنا ہے، (اس لیے) یہ خلائی جہاز کسی بکتربند ٹینک کی مانند بنایا گیا ہے۔‘

ناسا کے ماہرین نے جونو کا مدار اس طرح سے وضع کیا ہے کہ اسے مشتری کے گرد خطرناک ترین خطوں سے نہ گزرنا پڑے۔

انجینیئروں نے حساس الیکٹرانک آلات کو تابکاری سے بچانے کے لیے انھیں ٹائٹینیم کی موٹی تہوں کی پیچھے چھپا رکھا ہے۔ تاہم اس کے باوجود اندازہ ہے کہ اس جہاز کا کیمرا 2018 تک کام کرنا بند کر دے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ مشن فروری 2018 تک جاری رہے گا، جس کے بعد جونو مشتری کی فضا کے اندر غوطہ لگا کر ’خودکشی‘ کر لے گا

جیٹ پروپلشن لیبارٹری کی انجینیئر ہائیڈی بیکر کہتی ہیں کہ ’جونو کو دو کروڑ ریڈ تابکاری برداشت کرنا پڑے گی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی انسان ایک سال میں دس کروڑ ایکس رے کروائے۔‘

جونو مشتری کے بادلوں کے پانچ ہزار کلومیٹر اوپر اڑتے ہوئے ڈیٹا اکٹھا کرے گا اور اس کے نو آلات مشتری کی شاندار قطبی روشنیوں کے پار جھانکیں گے۔

اس کے علاوہ کششِ ثقل ناپنے والے حساس آلات اس بات کا سراغ لگائیں گے کہ آیا اس سیارے کا کوئی ٹھوس مرکز ہے یا نہیں۔

یہ مشن فروری 2018 تک جاری رہے گا، جس کے بعد جونو مشتری کی فضا کے اندر غوطہ لگا کر ’خودکشی‘ کر لے گا۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ کہیں بھٹک کر مشتری کے بڑے چاندوں میں سے کسی ایک تک نہ پہنچ جائے۔

مشتری کے کم از کم ایک چاند یوروپا کے بارے میں امکان پایا جاتا ہے کہ شاید وہاں کسی قسم کی جراثیمی زندگی کے آثار موجود ہوں اس لیے سائنس دان اسے کسی قسم کے زمینی مواد سے آلودہ نہیں کرنا چاہتے۔

اسی بارے میں