’پھپھوندی سے انفیکشن، انسانی جان کے لیے خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption فنجائی سے پیدا ہونے انفیکشن سے ان افراد کی جان کو زیادہ خطرہ ہے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فنجائی (پھپھوندی) سے ہونے والے انفیکشن ملیریا یا چھاتی کے سرطان کی نسبت زیادہ انسانوں کی جان لیتے ہیں لیکن اس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔

سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایبرڈین کے پروفیسر نیل گو کا کہنا ہے کہ ہے دنیا میں ہر سال دس لاکھ سے زائد افراد فنجائی سے ہونے والی بیماریوں سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اس کے لیے ویکسین دستیاب نہیں ہے اور وہ اس کے نئے طریقہ علاج کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انگلینڈ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کو فنجائی سے پیدا ہونے والی ایک نئی قسم کی بیماری کا سامنا ہے۔

فنجائی کی 50 لاکھ سے زائد اقسام ہیں لیکن اس کے تین اہم گروہ لوگوں کی اموات کا سبب بنتے ہیں۔ جن میں درج ذیل اقسام شامل ہیں:

٭ ایسپرگیلس۔ پھیپھڑوں کا نقصان پہنچاتی ہے۔

٭ کرپٹوکوکسس۔ جو عام طور پر دماغ پر حملہ کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption فنجائی کی 50 لاکھ سے زائد اقسام ہیں

٭ کینڈیڈا۔ یہ منہ اور تولیدی اعضا کو متاثر کرتی ہے۔

پروفیسر گو کہتے ہیں: ’بہت سارے افراد فنجائی کی معمولی انفیکشنز کے بارے میں جانتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایتھلیٹس فٹ سے کسی کی موت ہوئی ہو۔‘

فنجائی سے پیدا ہونے انفیکشن سے ان افراد کی جان کو زیادہ خطرہ ہے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے جیسا کہ ایچ آئی وی کے مریض، چنانچہ فنجائی کا مسئلہ افریقہ میں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

’یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی اور دنیا کے ان حصوں میں جہاں یہ ایک سنجیدہ مسئلہ جہاں اس سے نبرد آزما ہونے کا فقدان پایا جاتا ہے۔‘

سرطان کی تھیراپی اور اعضا کی پیوندکاری کے بعد استعمال ہونے والی ادویات کا استعمال کرنے والوں کے اس قسم کی انفیکشن سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں