فحش پوسٹ شائع کرنے پر سنیپ چیٹ پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty

سماجی رابطے کی ویب سائٹ سنیپ چیٹ کبھی ایک سی عام کی ایپ ہوا کرتی ہے۔ آپ اس کے ذریعے تصویر بناتے، اپنے دوستوں کو بھیجتے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ غائب ہو جاتی تھی۔

آج کل سنیپ چیٹ میسیجنگ ایپ، ویڈیو شارپنگ ایپ اور نیوز ایپ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

٭ سنیپ چیٹ کے صارفین کو ایپ کے استعمال میں مشکلات درپیش

٭ سنیپ چیٹ کا فیس بک اور ٹوئٹر سے مقابلہ

اس ایپ کے ذریعے آن لائن کمیونیکیشن میں انقلاب آ چکا ہے جس میں فیس سواپنگ اور ڈاگ ماسکنگ جیسی سہولیات بھی شامل ہیں۔

لیکن کیا یہ نا مناسب ہے؟ کیا اس سے بچوں کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے؟ اس حوالے سے ایک عدالتی مقدمے کو منظرِ عام پر لایا جا رہا ہے۔

اس میں سنیپ چیٹ کے ایک فنکشن ڈسکور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، یہ وہ حصہ ہے جس میں پبلشرز پر پوری کوشش کرتے ہیں کہ نظر آئیں۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں ڈیلی میل، وائس، بز فیڈ اور دیگر جگہوں سے سنیپ چیٹ کے لیے خاص طور پر بنایا گیا مواد آتا ہے۔ اور ان پبلیکیشنز سے آنے والی خبروں کو پڑھنے اور ویڈیوز دیکھنے والے صارفین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

’ٹین تھنگز ہی تھنکس وین ہی کین ناٹ میک یو آرگیزم ‘ اس جگہ کاسموپولیٹن میگزین سے آئی ہے۔

اس مقدمے میں صرف ایک مثال دی گئی ہے، اس میں اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جنھیں یہاں شائع کرنا مناسب نہیں ہے جو میرے خیال میں شکایت کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگر یہ بی بی سی کی ویب سائٹ کے لیے غیر موزوں ہے تو کیا نابالغوں کو سنیپ چیٹ پر یہ سب دیکھنا چاہیے؟

امریکی ریاست لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ جان ڈو، جنھوں نے یہ مقدمہ دائر کیا ہے، کا کہنا ہے کہ سنیپ چیٹ صارفین کی عمر کو مدِ نظر رکھے بغیر باقاعدگی سے یہ مواد شائع کر رہی ہے۔

جان ڈو کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے امریکہ میں آج کل لاکھوں والدین اس بات سے نا واقف ہیں کہ سنیپ چیٹ ان کے بچوں کے لیے ایسا مواد تیار اور شائع کر رہا ہے۔

دوسری جانب سنیپ چیٹ نے جمعرات کو ایک مختصر بیان جاری کیا۔

سنیپ چیٹ کے ایک ترجمان نے ای میل میں لکھا ’اگر لوگ ہماری وجہ سے ناراض ہوئے ہیں تو ہم اس بات پر شرمندہ ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ’ہمارے شراکت داروں کو ادارتی آزادی حاصل ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں