فیس بک کا ’خفیہ میسج‘ سروس کا تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption ابھی محدود پیمانے پر خفیہ پیغامات کی سروس پر تجربہ کیا جا رہا ہے

سماجی رابطے کی معرف ویب سائٹ فیس بک اپنے میسینجر صارفین کے لیے ایسی میسج سروس کا تجربہ کر رہی ہے جس میں پیغامات تھوڑی دیر کے بعد از خود غائب ہو سکتے ہیں۔

فیس بک نے کہا کہ یہ ذاتی یا نجی پیغامات صارفین کی خواہش کے مطابق ایک معینہ مدت کے بعد غائب ہوجائیں گے۔

کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ یہ ایک نئی ’خفیہ میسیج‘ سروس کا حصہ ہے جس کا محدود پیمانے پر تجربہ کیا جا رہا ہے۔

اس میں پیغام ارسال کرنے والے ایک آلے یا مشین کا انتخاب کرتے ہیں اور اس طرح ارسال کیے جانے والے پیغامات اسی آلے یا مشین پر سٹور (جمع) ہوتے ہیں۔

اور جس پیغام کے بارے میں ’غائب‘ کا متبادل استعمال کیا جاتا ہے وہ اس مشین سے بھی ڈلیٹ ہو جاتا ہے۔

فیس بک نے کہا ہے کہ ’کسی کے ساتھ خفیہ بات چیت آپشنل (اختیاری) ہے اور خفیہ پیغامات ایک ہی مشین پر پڑھے جا سکتے ہیں اور ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ یہ ہر کسی کے لیے موزوں تجربہ نہیں ہو سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption اس میں غائب کا ایک متبادل ہے جس کا استعمال اختیاری ہے

فیس بک نے مثال کے طور پر صحت اور مالی امور کے بارے میں بات چیت کی اس ضمن میں نشاندہی کی ہے کہ لوگ اسے خفیہ یا راز رکھنا چاہیں گے لیکن دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ معاشقے بھی اس ضمن آ سکتے ہیں۔

فیس بک نے کہا ہے کہ ابھی اس کا محدود سطح پر تجربہ کیا جا رہا ہے لیکن گرمیوں کے بعد یہ زیادہ وسیع پیمانے پر دستیاب ہوگا۔

ابھی ویڈیو اور جی آئی ایف تصاویر خفیہ طور پر مشترک نہیں کی جا سکتی ہیں۔

اس سروس کے غلط استعمال کے خلاف شکایت کرنے کے لیے اس میں ایک علیحدہ فیچر ہوگا اور اس کے متعارف ہونے کے بعد کسی پیغام کے ڈلیٹ ہونے میں تاخیر ہو سکتی ہے تاکہ پیغامات پر انتباہ جاری کیا جا سکے۔

اپنے تکنیکی دستاویز میں فیس بک نے وضاحت کی ہے کہ اسے سادہ متن پر مشتمل پیغامات تک اس وقت تک رسائی نہیں ہوگی جب تک کہ خفیہ بات چیت میں شامل کوئی شخص اس کے بارے میں رپورٹ نہیں کرتا۔

اسی بارے میں