اسرائیل میں ’پہلا‘ فلسطینی قبرستان دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہت سی قبروں میں سے 145انسانی جسموں کی باقیات کو دریافت کیا ہے۔

اسرائیل میں 30 سالہ تحقیقات کے بعد ماہرین نے ایک فلسطینی قبرستان دریافت کیا ہے ۔

اسرائیل میں محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ہونے والا پہلا فلسطینی قبرستان ہے۔

یہ دریافت سنہ 2013 میں کی گئی تھی اور بالآخر اتوار کو اس کی رونمائی کی گئی، کہا جارہا ہے کہ یہ حالیہ دریافت اس جنگجو قوم کے نقطہ آغاز کے بارے میں جاننے میں مدد دے سکتی ہے۔

اس مہم میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ انھوں نے وہاں موجود قبروں میں سے 145 انسانی جسموں کی باقیات کو دریافت کیا ہے۔

لیون لیوے نے اس مہم کی سربراہی کی۔

بتایا گیا ہے کہ ان قبروں کے گرد خوشبو، خوراک اور زیورات اور ہتھیار موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس دریافت کو تین سال تک چھپایا گیا جس کی وجہ کھدائی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ممکن بنانا تھا

یہ باقیات ایسے لوگوں کی ہیں جو 11ویں اور آٹھویں صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق رکھتے تھے۔

اس تحقیقاتی مہم میں شامل ڈینئیل ایم ماسٹر کا کہنا ہے کہ اس دریافت کے بعد ہم اس راز کو جاننے کے قریب ہیں کہ ان کا آغاز کیا تھا۔

اس دریافت کو تین سال تک چھپایا گیا جس کی وجہ کھدائی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ممکن بنانا تھا۔

یہ خدشہ تھا کہ سخت گیر یہودی اس اقدام کی مخالفت کریں گے کیونکہ ان کی جانب سے پہلے مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

مظاہرین نے قبروں کی جگہ کو خراب کرنے کے اس معاملے کو ماہر آثار قدیمہ کےساتھ اٹھایا تھا۔

اب ماہرین کی ٹیم ان انسانی باقیات کے ڈی این اے اور ریڈیو کاربن اور ان کی اصل عمر جاننے کے لیے دیگر ٹیسٹ کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنگجو 12ویں صدی قبل مسیح مغربی علاقے سے قدیم اسرائیل میں ہجرت کر کے آئے تھے

ایسا نہیں کہ تمام ہی لاشوں کے ساتھ روزمرہ کے استعمال کی چیزیں رکھی گئی ہوں۔

بتایا جاتا ہے کہ فلسطینی لوگ اسی طرح مر جانے والوں کی تدفین کرتے تھے۔

مسیحیوں کی مقدس کتاب بائبل میں اس قوم کو قدیم اسرائیلیوں کا دشمن کہا گیا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 12ویں صدی قبل مسیح مغربی علاقے سے قدیم اسرائیل میں ہجرت کر کے آئے تھے۔

بائبل کے مطابق انھیں جنگجوؤں میں سے ایک جلیات کو نوجوان ڈیوڈ نے بادشاہ بننے سے پہلے شکست دی تھی۔

اسی بارے میں