آن لائن یورنیورسٹی شامی پناہ گزینوں کو مفت تعلیم دے گی

Image caption خانہ جنگی کے باعث لاکھوں شامی اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں

ایک آن لائن یورنیورسٹی نے 500 شامی پناہ گزینوں کو ڈگری کورسوں میں مفت داخلہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

فلاحی مقاصد کے تحت قائم کردہ ’یورنیورسٹی آف دا پیپل‘ یعنی لوگوں کی یورنیورسٹی امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم ہے۔

اس یورنیورسٹی کا مقصد ایسے لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے جو تعلیمی اعتبار سے تو اہل ہیں لیکن تعلیم حاصل کرنے کی مالی سکت نہیں رکھتے۔

اس یورنیورسٹی کے بانی اور سربراہ شائے رشیف کے بقول ’انٹرنیٹ کی ایجاد کا اس سے بہتر مقصد نہیں ہو سکتا۔‘

یورنیورسٹی آف دا پیپل میں مستند ڈگری کورس کرائے جاتے ہیں اور اس کے طلبہ دنیا کے 180 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس یورنیورسٹی کے بانی شائے رشیف کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کے لیے ایک متبادل ذریعہ ہیں جن کے پاس اور کوئی متبادل نہیں ہے، جیسے روانڈا کی نسل کشی کے متاثرین یا پھر شامی پناہ گزین۔‘

امریکہ میں یہ یورنیورسٹی ایسے لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے جو ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم ہیں اور عام تعلیمی ادارے مناسب کاغذات کی عدم موجودگی میں انھیں داخلہ نہیں دیتے۔

شامی پناہ گزینوں کو جن کورسز میں مفت داخلہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے ان کی عام طور پر فیس تقریباً چار ہزار ڈالر ہوتی ہے۔

یورنیورسٹی کے سربراہ کے بقول ’پناہ گزینوں سے زیادہ کوئی اور تعلیم حاصل کرنے کا حقدار نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ کبھی بھی اپنے وطن واپس نہیں جا سکیں گے اور ان کی آنے والی نسلیں بھی پناہ گزین ہی ہوں گی۔‘

یورنیورسٹی کے بانی کا مزید کہنا ہے کہ ’تعلیم ہی ان کی حالت بدلنے اور نئے معاشروں میں انھیں ضم ہونے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔‘

یورنیورسٹی مشرقِ وسطیٰ کے پناہ گزینوں کے لیے مزید سہولت پیدا کرنے کی نیت سے عربی زبان میں مضامین پڑھانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

Image caption شائے رشیف اپنی یورنیورسٹی کو توسیع دینے کا ارادہ رکھتے ہیں

یورنیورسٹی آف دا پیپل کے بانی کا کہنا ہے کہ یورنیورسٹی قائم کرنے کا بنیادی مقصد ان لوگوں کو مدد فراہم کرنا ہے جن کے لیے بصورت دیگر ڈگری لینا ممکن نہیں ہے۔

شائے رشیف کے مطابق آن لائن تعلیمی پروگراموں کے آغاز سے ایک اور بڑا سول بھی پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں اعلیٰ تعلیم دینے کا طریقہ کار کس طرح متاثر ہو گا۔

ان کے بقول روایتی تعلیمی اداروں کے برعکس آن لائن تعلیمی اداروں تک دنیا بھر سے محدود وسائل والے طلبہ بھی باآسانی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

پیپل یورنیورسٹی کے بانی کے بقول اگر دنیا کے پسماندہ علاقوں، مثال کے طور پر افریقہ کے لوگوں کے لیے یورنیورسٹیاں اپنے دروازے کھولتی ہیں تو ہم تخلیقی صلاحیتوں کا سیلاب دیکھیں گے۔

شائے رشیف کےبقول ’آپ دیکھیں گے کہ اگلا آئن سٹائن زمبابوے میں پیدا ہو گا۔‘

اسی بارے میں