ایمیزون:درختوں کی فہرست بندی کے لیے ’300 برس درکار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اب تک ایمیزون میں درختوں کی 12 ہزار اقسام دریافت کی جا چکی ہیں

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایمیزون کے جنگلات میں درختوں کی اتنی زیادہ اور اتنی متنوع اقسام پائی جاتی ہیں کہ ان سب کی فہرست بندی میں تین صدیاں لگ جائیں گی۔

یہ بات جریدے سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہونے والے ایک بڑے سائنسی مطالعے میں سامنے آئی ہے۔

٭ ایمیزون کے درختوں کی کٹائی

اس مطالعے کے دوران عجائب گھروں میں گذشتہ تین سو برس سے رکھے گئے پانچ لاکھ کے لگ بھگ نمونوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

ایمیزون کے جنگلات براعظم جنوبی امریکہ خاص طور پر برازیل میں پائے جاتے ہیں اور انھیں درختوں کی کٹائی کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Bowler naturepl.com
Image caption ایمیزون کے جنگلات براعظم جنوبی امریکہ خاص طور پر برازیل میں پائے جاتے ہیں

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب تک ایمیزون میں درختوں کی 12 ہزار اقسام دریافت کی جا چکی ہیں، جب کہ ایک اندازے کے مطابق ابھی چار ہزار مزید اقسام دریافت ہونا باقی ہیں۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ درختوں کی اقسام کی فہرست سازی سے ان لوگوں کو مدد ملے گی جو دنیا کے اس سب سے بڑے اور حیاتیاتی اعتبار سے سب سے متنوع جنگل کا ماحول بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

نیدر لینڈ سے تعلق رکھنے والے سائنس دان اور اس تحقیق کے مصنفین میں سے ایک ڈاکٹر ہانز ٹیر سٹیگ کہتے ہیں: ’اس فہرست سے سائنس دانوں کو زیادہ بہتر اندازہ ہو سکے گا کہ ایمیزون کے طاس میں کیا کچھ اگتا ہے، اور اس سے تحفظ کی کوشش کو تقویت ملے گی۔‘

اسی بارے میں