’زیکا وائرس آئندہ تین برس میں ختم ہوسکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زیکا وائرس کو بچوں میں بڑھتی ہوئی اعصابی خرابی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے اور اب تک اس وائرس کو 50 سے زائد ممالک میں دیکھا جا چکا ہے

سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے پیشن گوئی کی ہے کہ آئندہ تین برسوں میں زیکا وائرس سے متاثر نہ ہونے والے افراد کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے یہ وائرس ختم ہو سکتا ہے۔

میگزین جنرل سائنس میں لکھتے ہوئے محقیقین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ دوسری بار زیکا وائرس سے وبا پھیلنے میں دس برس کا وقفہ ہو سکتا ہے۔

لندن کے امپیریئل کالج کی اس ٹیم نے لاطینی امریکہ میں پھیلنے والی اس وبا کا استعمال کرتے ہوئے اس بارے میں ایک نیا طریقہ کار تخلیق کیا ہے۔

اس ماڈل کے مطابق چونکہ زیکا وائرس ایک شخص کو دو بار متاثر نہیں کر سکتا اس لیے وقت کے ساتھ ساتھ جتنے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوں گے وہ سب کے سب محفوظ گروپ کا حصہ ہو جائیں گے اور اس طرح وبا سے متاثر ہونے والوں کی سطح کم ہوتے ہوتے ختم ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زیکا وائرس کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اس بارے حتمی طور پر کوئی بھی پیشین گوئی کی جا سکے

اس ماڈل کے تحت ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق چونکہ زیکا سے لوگ دوبارہ متاثر نہیں ہوں گے اس لیے نئی نسل میں اس کے دوبارہ پھیلنے میں کافی وقت لگے گا۔

لیکن زیکا وائرس کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اس بارے حتمی طور پر کوئی بھی پیشین گوئی کی جا سکے۔

زیکا وائرس کا خطرہ ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں ایک خاص مچھر اس وائرس کو پھیلاتے ہیں۔

زیکا وائرس کی وجہ سے نوزائیدہ بچے پیدائشی نقص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور اب تک اس وائرس کو 50 سے زائد ممالک میں دیکھا جا چکا ہے۔

بعض خاص مچھروں سے پھیلنے والا زیکا وائرس حاملہ خواتین کے لیے خظرناک ثابت ہو سکتا ہے جس سے بچوں کی افزائش کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس سے بچے مائیکروسیفلیلک یعنی اُن کا سر چھوٹا ہوتا ہے اور اس سے اُن کی جسمانی نشو و نما رک جاتی ہے۔

اسی بارے میں