فیس بک ڈرونز کی انگلینڈ میں تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption اینڈی کوکس کا پہلی ڈرون پرواز کے بعد کہنا تھا ابھی ایک طویل سفر باقی ہے

انگلینڈ کی کاؤنٹی سمرسیٹ کے ایک ویئر ہاؤس میں فیس بک کی دنیا پر حاوی ہونے کو کوششیں آخری مراحل میں ہیں یا دوسرے لفظوں میں سوشل نیٹ ورک کے ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں افراد کے ساتھ منسلک ہونے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کا نام اکوئیلا پراجیکٹ ہے جس میں شمسی توانائی سے اڑنے والے ڈرون جہاز تیار کیے جا رہے ہیں جو کئی ماہ تک دور دواز علاقوں میں پروازیں کریں گے اور انٹرنیٹ کنیکشن فراہم کریں گے۔

دو سال قبل فیس بک نے ایک چھوٹی برطانوی کمپنی اسینٹا خریدی تھی جو شمسی توانائی سے اڑنے والے ڈرون بناتی ہے، اور اس کے مالک اینڈی کوکس پراجیکٹ اکوئیلا کی نگرانی کر رہے ہیں۔

جون کے اواخر میں اس ویئر ہاؤس میں پہلا ڈرون تیار کیا گیا اور اسے ایریزونا پہنچایا گیا جہاں اس کو پہلی پرواز کے لیے دوبارہ ترتیب سے جوڑا گیا۔

اس ڈرون کے پروں‌ کی وسعت بوئنگ 737 جتنی ہے لیکن اس کا وزن ایک عام گاڑی کے مقابلے میں تین گنا کم ہے اور یہ 90 منٹ تک فضا میں رہا اور اس کی کارکرگی عمدہ رہی۔

یہ ڈرون بحاظت زمین پر اترنے میں بھی کامیاب رہا۔

اینڈی کوکس کا پہلی ڈرون پرواز کے بعد کہنا تھا ابھی ایک طویل سفر باقی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم 60 سے 90 ہزار فٹ کی بلندی کی پرواز کریں گے، جہاں بہت زیادہ ٹھنڈ ہوتی ہے اور یہ تین ماہ تک فضا میں رہے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایئرٹریفک میں خلل دیے بغیر انٹرنیٹ فراہم کر سکتے ہیں۔

فی الحال شمسی توانائی سے اڑنے والے ڈرون مسلسل دو ہفتے تک پرواز کر سکتے ہیں چنانچہ فیس بک کے ڈرونز کو تین ماہ تک ملسل فضا میں رکھنے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں