شمسی طیارہ قاہرہ سے روانہ، منزل سے بس ایک قدم دور

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سولر امپلس اہرامِ مصر کے اوپر

شمسی توانائی کی مدد سے اڑنے والا طیارہ سولر امپلس دنیا کا چکر لگانے کی مہم کے آخری مرحلے پر مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے روانہ ہو گیا ہے۔

سولر امپلس تقریباً 48 گھنٹے کی پرواز کے بعد اپنی حتمی منزل ابوظہبی پہنچےگا جہاں سے اس نے گذشتہ سال مارچ میں دنیا کا چکر لگانے کے سفر کا آغاز کیا تھا۔

اس ایک آدمی کی گنجائش والے طیارے کو آندرے بورشبرگ اور برٹرینڈ پیکارڈ نے مختلف مراحل میں باری باری اڑایا ہے اور اب آخری پرواز کے پائلٹ برٹرینڈ پیکارڈ ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امید کی جا رہی ہے کہ سولر امپلس کی آخری پرواز سیدھی سادی ہو گی، تاہم ہوابازوں کو تشویش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی گرمی

طیارے پر اثرانداز ہو کر اس کی کارکردگی کو متاثر نہ کرے۔

توقع ہے کہ ہواباز پیکارڈ طیارے کو خاصی بلندی پر اڑائیں گے تاکہ گرم ہواؤں سے بننے والے گردابوں اور خلل سے محفوظ رہ سکیں۔

سعودی صحرا کے اوپر ہوا کم ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ طیارے کے انجن کو زیادہ مشقت کرنا پڑے گی۔

اس کے باعث طیارے کی توانائی کی بیٹریوں کو احتیاط سے استعمال کرنا پڑے گا تاکہ وہ رات کے وقت طیارے کو مطلوبہ ایندھن فراہم کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Solar Impulse

پیکارڈ نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمارا خیال تھا کہ یہ سیدھی سادی پرواز ہو گی کیوں کہ مصر اور ابوظہبی کے درمیان موسم ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، لیکن دراصل (اس سفر کے درمیان) اچھی حکمتِ عملی تلاش کرنا خاصا مشکل کام ہے۔‘

سولر امپلس اب تک 30 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے شمسی توانائی کی مدد سے دنیا کا چکر لگانے والا پہلا طیارہ بن گیا ہے۔

قاہرہ سے ابوظہبی کی پرواز اس کے سفر کا 17واں اور آخری مرحلہ ہے، جس کے دوران اس نے بحرالکاہل اور بحرِ اوقیانوس کو عبور کیا ہے۔

سولر امپلس پروجیکٹ کا مقصد کسی خاص قسم کی ہوا بازی کا مستقبل پیش نہیں کرنا، بلکہ صاف ستھرے ایندھن کے استعمال کا مظاہرہ کرنا ہے۔

اسی بارے میں