قد بڑھانے کی بھاری قیمت

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

جوزف جب بھی دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے، ان کا قد حیرت انگیز طور پر چھ انچ بڑھ چکا ہوگا۔

لیکن اس کے لیے انھوں نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ وہ چار مہینے سے بستر پر پڑے ہیں اور دوبارہ چل پانے میں انھیں ابھی دو تین مہینے اور لگیں گے۔

’میں نے اپنی زندگی کی پوری کمائی اس آپریشن پر خرچ کر دی ہے۔ یہ بہت جوکھم بھرا کام تھا۔ لیکن میرے لیے قد بڑھانا بہت ضروری تھا۔ میں احساس کمتری کا شکار ہو رہا تھا کیونکہ میرا تعلق جنوبی امریکہ کے جس ملک سے ہے وہاں سب کا قد کم سے کم چھ فٹ ہوتا ہے۔‘

جوزف اب ہالینڈ میں نرس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ انھوں نےدو سال تک دن رات مشقت کر کے آپریشن کے لیے رقم جمع کی اور دہلی کے لیے کُوچ کر بیٹھے۔

’اب میری جیب خالی ہے لیکن مجھے کوئی افسوس نہیں۔‘

دہلی میں ان کی سرجری ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر امر سرین نے کی جن کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ پانچ برس میں قد بڑھانے کے تقریباً 300 آپریشن کر چکے ہیں۔

Image caption قد بڑھانے کا آپریشن نہ صرف پیچیدہ بلکہ بہت مہنگا بھی ہے

وہ کہتے ہیں کہ ’جب کوئی سرجری کے لیے میرے پاس آتا ہے تو پہلے میں انھیں ٹالنے کی کوشش کرتا ہوں، کہتا ہوں تم پاگل ہوگئے ہو کیا۔۔۔اگر وہ نہیں مانتے تو پھر میں یہ دیکھتا ہوں کہ آپریشن سے ان کی زندگی کس طرح بدلے گی؟ کیا جو خواب انہوں نے دیکھا ہے وہ پورا ہو سکتا ہے؟‘

یہ انتہائی تکلیف دہ اور پیچیدہ سرجری ہے اور بہت مہنگی بھی۔

قد بڑھانے کے اس غیر معمولی آپریشن میں ٹانگوں کی ہڈیاں توڑ کر ان میں سٹیل کی راڈ نصب کی جاتی ہے۔ ان راڈز کی مدد سے روزانہ ہڈیوں میں ایک ملی میٹر کا فاصلہ یا فرق پیدا کیا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ ہڈی بڑھتی جاتی ہے اور قد بھی۔

ایک ہڈی کو زیادہ سے زیادہ تین انچ بڑھایا جاسکتا ہے اس لیے جوزف نے اپنی جانگھ اور گھٹنے سے نیچے والی ہڈی، دونوں پر یہ آپریشن کرایا ہے۔

ان کے برابر والے کمرے میں دو بہنیں فون پر کھیل رہی ہیں۔ ان کا تعلق راجستھان سے ہے اور دونوں کا آپریشن ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا قد اتنا کم ہے کہ شادی میں دقت ہو رہی ہے۔ ہم نے سوچا تھا کہ قد بڑھ جائے گا تو ہم اور اچھے نظر آئیں گے، تکلیف تو ہوگی لیکن برداشت کر لیں گے۔‘

Image caption اس غیر معمولی آپریشن میں ٹانگوں کی ہڈیاں توڑ کر ان میں سٹیل کی راڈ نصب کی جاتی ہے

لیکن دہلی سے 1600 کلومیٹر دور حیدر آباد دکن میں 21 سال کے نکھل ریڈی اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ خواب ہمیشہ پورے نہیں ہوتے۔

نکھل کا قد پانچ فٹ سات انچ ہے، جو ہندوستان میں مردوں کا اوسط قد ہے، لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے والدین سے چھپ کر یہ آپریشن کرایا، اور اب پچھتا رہے ہیں۔

’ڈاکٹروں نے مجھ سےکہا تھا کہ میں پندرہ دن میں کام پر لوٹ سکتا ہوں۔۔۔اب کئی مہینے ہوگئے ہیں، تکلیف ناقابل برداشت تھی اس لیے قد بڑھانے کی کوشش میں نے درمیان میں ہی چھوڑ دی ہے۔۔۔اب میں بستر پر پڑا ہوں اور وہیل چیئر پر بیٹھنے کے لیے بھی کئی لوگوں کی مدد لینی پڑتی ہے۔‘

نکھل نے اب اس ہسپتال کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے جہاں ان کا آپریشن کیا گیا تھا۔ اب ان کا کہنا ہےکہ ’میں سو فیصد لوگوں سے یہ کہوں گا کہ یہ آپریشن نہ کروائیں۔‘

یہ آپریشن انڈیا کے کئی شہروں میں ہو رہے ہیں لیکن مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ ڈاکٹر اور مریض دونوں ہی سامنے آنے سے بچتے ہیں لیکن ڈاکٹرسرین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن غیر قانونی نہیں ہیں۔

’اگر جنس کی تبدیلی کا آپریشن ہو سکتاہے تو قد بڑھانے کا کیوں نہیں؟‘

Image caption یہ آپریشن انڈیا کے کئی شہروں میں ہو رہے ہیں لیکن مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں

قد بڑھانے کی یہ تکنیک سائبریا میں ایجاد کی گئی تھی اور اب دنیا کے کئی ممالک میں استعمال کی جاتی ہے۔

آپریشن کے منفی اثرات ابھی غیر واضح ہیں اور حکومت کی جانب سے کوئی نگرانی کا نظام بھی نہیں۔

ڈاکٹر سرین کے مطابق یہ پیچیدہ آپریشن ہے اور اس میں ’پٹھوں اور اعصابی نظام کو نقصان کا خطرہ رہتا ہے۔‘

جوزف کو ان خطرات کا پوری طرح علم تھا لیکن وہ ایک نئی اونچائی سے دنیا کو دیکھنا چاہتے تھے۔

وہ اب اپنی نئی قد آور شخصیت کے ساتھ ہالینڈ لوٹنے کی تیاری میں ہیں، لیکن نکھل کو صرف دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا انتظار ہے۔

( شناخت ظاہر نہ کرنے کی غرض سے اس رپورٹ میں نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔)

اسی بارے میں