فلوریڈا میں زیکا کے چار پراسرار کیسز

Image caption زیکا سے متاثر لوگ تھوڑے سے بیمار دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ پیدا ہونے والے بچوں کے دماغ کو بہت بری طرح متاثر کرتا ہے

امریکی ریاست فلوریڈا میں محکمہ صحت سے منسلک ماہرین زیکا سے متاثرہ کے ان چار کیسز کی جانچ پڑتال کررہے ہیں جو بظاہر سفر کرنے کے باعث نہیں منتقل ہوا۔

٭’زیکا وائرس آئندہ تین ماہ میں ختم ہوسکتا ہے‘

اب تک لاطینی امریکہ اور غرب الہند سے باہر جہاں جہاں یہ وائرس موجود ہے یہ یا تو سفر کے باعث یا پھر جنسی طور پر منتقل ہوا ہے۔

فلوریڈا کے ان چار زیکا کیسز سے یہ لگتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ وائرس امریکہ میں موجود مچھروں میں منتقل ہوا ہے۔

زیکا سے متاثر لوگ تھوڑے سے بیمار دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ پیدا ہونے والے بچوں کے دماغ کو بہت بری طرح متاثر کرتا ہے۔

فلوریڈا میں حکام کا کہنا ہے کہ ابھی وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے اور وہ اب بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ وائرس منتقل کیسے ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بہت سنجیدہ نوعیت کے کیسز میں بچے کی موت واقع ہوسکتی ہے یا پھر زندہ بچ جانے والے متاثرہ بچوں کی ذہنی نشونما مکمل نہیں ہوپاتی

اس بات کا پتہ لگانے کے لیے کہ زیکا مچھروں کے ذریعے منتقل ہوا ماہرین متاثرہ مریضوں کے گھر کے اردگر 150 میٹر تک کے علاقے میں موجود لوگوں اور گھروں کا سروے کریں گے۔

یہ چار کیسز میامی دیڈ اور بروورڈ کاؤنٹی میں سامنے آئے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ہی ایک ہسپانوی خاتون کے ہاں زیکا سے متاثرہ بچے کی ولادت ہوئی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یورپ میں یہ اس قسم کا پہلا کیس ہے۔

نومولود بچوں میں اس مرض کی منتقلی کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت نے رواں برس فروری میں زیکا وائرس کو عالمی سطح پر ایمرجنسی نافذ کی تھی۔

بہت سنجیدہ نوعیت کے کیسز میں بچے کی موت واقع ہوسکتی ہے یا پھر زندہ بچ جانے والے متاثرہ بچوں کی ذہنی نشونما مکمل نہیں ہوپاتی۔

اسی بارے میں