جنرل موٹرز نے انڈیا میں 100 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری روک دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا میں جنرل موٹرز کے دو پلانٹ ہیں

امریکہ کی معروف کار کمپنی جنرل موٹرز نے انڈیا میں 100 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے اپنے منصوبے کو فی الحال معطل کر دیا ہے۔

جنرل موٹرز انڈیا کے متعلق اپنی منصوبہ بندی کا تجزیہ کر رہی ہے۔

٭ ٹویوٹا نے 14 لاکھ گاڑیاں واپس منگوا لیں

٭ زکا وائرس کی وجہ سےٹاٹا کی گاڑی کا نام تبدیل

انڈیا میں جنرل موٹرز کی کاروں کی فروخت میں 40 فیصد تک کمی آئی ہے اور ٹرانسپورٹ بازار میں بھی اس کی حصہ داری میں کمی واقع ہوئی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق حالیہ دنوں انڈیا میں ڈیزل گاڑیوں پر سختی کی وجہ سے جنرل موٹرز کو اپنی منصوبہ بندی پر نئے سرے سے غور کرنا پڑ رہا ہے۔

انڈیا میں روزانہ پانچ ہزار سے زیادہ نئی کاریں فروخت ہوتی ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق انڈیا سنہ 2020 تک دنیا کا تیسرا سب سے بڑا گاڑیوں کا بازار بن جائے گا۔

سنہ 2015 میں فورڈ نے بھی انڈیا کے گھریلو بازار میں اپنی حصہ داری بڑھانے کے لیے 100 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی بات کہی تھی۔

انڈیا میں کاروں کا روز افزوں وسیع بازار ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی چند بڑی کار بنانے والی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں لیکن اس بازار میں اپنی گرفت قائم کرنا بہت آسان نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا میں ایک اندازے کے مطابق روزانہ پانچ ہزار کاریں فروخت ہوتی ہیں

جنرل موٹرز کو انڈیا میں 20 سال بعد بھی خسارے کا سامنا ہے۔

جنرل موٹرز (انڈیا) کے ایک سابق اعلی افسر کا کہنا ہے کہ اگر کمپنی انڈیا میں موجود اپنی دو فیکٹریوں میں سے ایک کو بند کردے تو انھیں حیرت نہیں ہوگی۔

تو غلطی کہاں ہوئی؟

انڈین صارفین کو پیسہ وصول گاڑی چاہیے، جو کم ایندھن میں زیادہ چلے، سروسنگ آسان اور اچھی ری سیل قیمت دے سکے۔

بی بی سی کی نامہ نگار شلپا كننن کے مطابق ماروتی سوزوكي اور ہنڈائی جیسی کمپنیاں ان مطالبات پر پورا اترتی ہیں اور اسی لیے انڈین بازاروں میں ان کی گرفت مضبوط ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنرل موٹرز نے شروع سے ہی انڈین بازاروں کو سمجھنے میں غلطی کی اور گاڑیوں کی فروخت میں آنے والی کمی کے متعلق کچھ نہیں کیا۔

تاہم امریکی بازارِ حصص میں جنرل موٹرز کے حصص میں ایک فیصد کی کمی کے باوجود اس کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال اپریل مئی میں کمپنی نے 7،217 کاریں برآمد کی ہیں جب کہ گذشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 590 تھی۔

اسی بارے میں