دنیا کا آخری وی سی آر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وی سی آر کو جس چیز نے پویلین کا راستہ دکھایا، خود اس ڈی وی ڈی کو ٹورنٹ، ویڈیو آن ڈیمانڈ اور یو ٹیوب کے ہاتھوں آکسیجن لگ چکی ہے

چند دن پہلے اخباروں میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی، جس کے مطابق جاپانی ٹیکنالوجی کمپنی فونائی الیکڑک نے اعلان کیا ہے کہ وہ جولائی کے آخر سے وی سی آر بنانا بند کر رہی ہے۔

یہ دنیا میں وی سی آر بنانے والی آخری کمپنی تھی۔

بظاہر بہت سے لوگوں کے لیے اس خبر میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ وی سی آر تو کب کا قصۂ پارینہ بن چکا۔ نہ اب وہ وی سی آر کرائے پر دینے والے کھوکھے گلی گلی کے نکڑ پر نظر آتے ہیں، نہ ہی اس کی کیسٹیں ڈھونڈے سے ملتی ہیں۔

پھر آخر اس خبر میں کیا خاص بات ہے؟

وی سی آر محض ایک ایجاد نہیں بلکہ ایک عہد ساز روایت کا نام تھا۔ اس کا نام آتے ہی میرے ذہن میں ایک تصویر ابھرتی ہے۔ کسی پردہ دار عورت کی مانند چادروں میں لپٹا لپٹایا، کئی پردوں میں ملفوف سیاہ ڈبہ۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ گاؤں میں بڑے بوڑھے وی سی آر کو نوجوانوں کا اخلاق سبوتاژ کرنے کے آلے کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وی سی آر تو کب کا قصۂ پارینہ بن چکا

اس لیے جب ہم سات میل دور قصبے سے وی سی آر کرائے پر لے کر آتے تو اسے چادروں میں لپیٹ کر لایا کرتے تھے، لیکن پھر بھی کہیں کسی کونے سے کوئی تار نکل کر بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیتی اور وہی عالم ہوتا تھا کہ:

کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے

جب گاؤں میں وی سی آر آیا تو حسبِ عادت و معمول بڑے بوڑھوں کو اس میں بےحیائی کا پہلو نظر آ گیا۔

چنانچہ کوئی خالی گھر یا بیٹھک ڈھونڈی جاتی جہاں مدھم بتیوں کی روشنی میں وی سی آر کو ٹی وی سے منسلک کرنے کا مرحلہ شروع ہوتا، ٹی وی کا مناسب چینل ٹیون کرنے میں بعض اوقات دیر لگ جاتی تو سبھی بےقرار ہونے لگتے، اور اگر کوئی غلط بٹن دب جاتا تو سارا معاملہ ہی ٹھپ ہو جایا کرتا تھا۔

بڑی مشکل سے کہیں جا کر ٹی وی پر ایک دھندلی تصویر نمودار ہوتی تو چہرے سکرین سے کہیں زیادہ روشن ہو جایا کرتے۔

اس کے بعد بتیاں مدھم اور آواز دھیمی رکھ کر جو فلم دیکھی جاتی وہ اپنی پسند کی نہیں بلکہ اس کا انحصار قصبے کے واحد وی سی آر والے کے ہاں موجود فلموں کے قلیل سرمایے پر ہوا کرتا تھا۔

اس کے پاس عام طور پر بالی وڈ کی پرانی فلمیں ہوا کرتی تھیں۔ اس زمانے میں جو فلمیں دیکھیں ان میں جرمانہ، آن، دیدار، مغلِ اعظم، بیتاب، کالا پتھر، شان، مسٹر انڈیا، رام لاکھن، تانگے والا، ہاتھی میرے ساتھی، وغیرہ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وی سی آر محض ایک ایجاد نہیں بلکہ ایک عہد ساز روایت کا نام تھا

میری پہلی فلم غالباً ’اکھیوں کے جھروکے سے‘ تھی، جس کی کہانی تو بھول بھلا گئی البتہ اسی نام کا گانا آج تک ذہن کے پردے پر جھلملاتا ہے۔

بعض لڑکوں نے وی سی آر لانے اور لگانے کے فن میں اس قدر مہارت بہم پہنچائی کہ ٹکٹ لگا کر فلمیں دکھانا شروع کر دیں۔ تاہم اس کی بھنک بڑوں تک پہنچ گئی اور انھوں نے ایک دن چھاپہ مار کر یہ کاروبار تلپٹ کر دیا۔

اسی دوران وی سی آر باقی دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ 80 کی دہائی کے اوائل میں جب یہ آلۂ مفیدہ خلیج کے راستے پاکستان پہنچا تو اس نے آتے ہی تفریح کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔

اس سے قبل آپ کے پاس ویڈیو انٹرٹینمٹن کرنے کے دو ذرائع تھے، یا تو آپ ٹیلی ویژن کے آگے بیٹھ کر اپنے پسندیدہ پروگرام کا انتظار کریں، یا پھر سینیما جا کر جو فلم لگی ہوئی ہے، وہ ملاحظہ کریں۔

ان دونوں صنعتوں کی اپنی عشروں پرانی، رچی بسی، جمی جمائی روایات تھیں۔ اس وقت کس کے ذہن و گمان میں ہوگا کہ ایک چھوٹا سا سیاہ ڈبہ ایک تیر سے دو شکار کرتے ہوئے ایک ہی ہلے میں ان دونوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گا؟

اب میڈیا صحیح معنوں میں آپ کی مرضی کے تابع ہو گیا۔ آپ جو چاہیں، جب چاہیں، دیکھ سکتے تھے۔

وی سی آر کے پیچھے پیچھے ہینڈی کیم بھی چلا آیا، جس کے بعد ہر کوئی فلم ساز بھی بن گیا۔ اب شادی بیاہ، سالگرہ، سیر و تفریح اور ایسے ہی دوسرے یادگار مواقع ہمیشہ کے لیے محفوظ کیے جا سکتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جو فلم دیکھی جاتی وہ اپنی پسند کی نہیں بلکہ اس کا انحصار قصبے کے واحد وی سی آر والے کے ہاں موجود فلموں کے قلیل سرمایے پر ہوا کرتا تھا

ساتھ ہی ساتھ وی سی آر نے پورن کو بھی فروغ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک متوازی اور زیرِ زمین انڈسٹری وجود میں آ گئی۔

یہ بات سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ ہماری زندگیوں ہی میں ایک انقلابی چیز آئی، اور اپنی بھرپور بہار دکھلا کر بالآخر ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئی۔

وی سی آر آیا تو بینڈ باجے سے، لیکن گیا تو یوں کہ اس کے جاتے قدموں کی چاپ تک سنائی نہیں دی۔ ورنہ قدیم زمانے میں کوئی انقلاب آتا تھا تو اس کی بازگشت صدیوں تک سنائی دیتی تھی۔اب یہ معامہ سمٹ کر سالوں تک محیط ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

وی سی آر کو جس چیز نے پویلین کا راستہ دکھایا، خود اس ڈی وی ڈی کو ٹورنٹ، ویڈیو آن ڈیمانڈ اور یو ٹیوب کے ہاتھوں آکسیجن لگ چکی ہے، لیکن نبضیں ہیں کہ ڈوبتی چلی جا رہی ہیں۔ یہ مکافاتِ عمل نہیں تو اور کیا ہے؟

جدید دور میں خوش آمدید۔ اپنے کمپیوٹروں، سمارٹ فونوں کی خیر منائیے۔ کیا پتہ اگلے ہی لمحے زمانہ ایسی قیامت کی چال چل جائے کہ کل ان کا بھی ڈھونڈے سے نشاں نہ ملے۔

اسی بارے میں