جنوبی کوریا میں ووکس ویگن کے 80 ماڈلز پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ووکس ویگن نے گذشتہ سال مضر گیس کے اخراجات کے متعلق ہیر پھیر کا اعتراف کیا تھا

جنوبی کوریا نے مضرِصحت گیسوں کے اخراج کی جانچ میں بددیانتی کے معاملے پر جرمن کمپنی ووکس ویگن کے 80 ماڈلز کی فروخت کو معطل کر دیا ہے اور اس پر جرمانہ عائد کیا ہے۔

ماحولیات کی وزارت کے مطابق ووکس ویگن پر تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ امریکی ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے جو کہ گذشتہ سال کے 14 ارب وون کے علاوہ ہے۔

یورپ کی سب سے زیادہ کار بنانے والی کمپنی نے گذشتہ سال یہ اعتراف کیا تھا کہ اس نے اپنی ڈیزل گاڑیوں میں کاربن اخراج سے متعلق اعداد و شمار میں بددیانتی کی تھی۔

اس کے بعد سے کمپنی کو فروخت اور اس کی ساکھ کے معاملے میں عالمی سطح پر نقصان کا سامنا ہے۔

جنوبی کوریا میں کار کی فروخت پر لگائی جانے والی پابندی کے تحت ووکس ویگن کی 32 اقسام کی گاڑیوں کی فروخت متاثر ہوئی ہے جس میں وی ڈبلیو گولف اور جیٹا شامل ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر مختلف قسم اور سائز کی 80 اقسام پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لگژری ڈيزل گاڑیوں میں دھاندھلی کا پتہ چنے کے بعد اندرونی جانچ کا حکم دیا کيا ہے

ان اقدامات کے نتیجے میں وی ڈبلیو، آڈی، بیٹلی ماڈلز متاثر ہوئی ہیں اور یہ جنوبی کوریا میں ووکس ویگن کار کمپنی پر وسیع تحقیقات کرنے والی ٹیم کے چھاپوں کا نتیجہ ہے۔

اس کے علاوہ جنوبی کوریا کی وزارت ماحولیات نے 83 ہزار کاروں کی سرٹیفیکیشن کو منسوخ کر دیا ہے جس سے اب یہ تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

یونہیپ نیوز ایجنسی کے مطابق ووکس ویگن نے سنہ 2007 سے اب تک جو تین لاکھ کاریں فروخت کی ہیں یہ ان کا 68 فیصد ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ جنوبی کوریا بطور خاص لگژری برانڈ آڈی اور بینٹلی کے لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کاربن اخراج کے سکینڈل سے قبل کمپنی کی فروخت میں تین گنا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

پہل پہل دھوکہ دہی کی امریکہ میں نشاندہی ہوئی تھی اور اب کمپنی نے لاکھوں گاڑیاں واپس منگوانے کے علاوہ اندرونی طور پر جانچ کر رہی ہے۔

اسی بارے میں