بحرین: حکومت مخالف احتجاج کے بعد ’انٹرنیٹ کرفیو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عوامی حمایت کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ بحرین واچ کا کہنا ہے کہ دراز نامی گاؤں میں موبائل نیٹ ورک میں گڑبڑ ریکارڈ کی گئی ہے جس کی وجہ وہاں حالیہ دنوں میں ہونے والا حکومت مخالف احتجاج ہے۔

٭ممتاز شیعہ عالم کی شہریت منسوخ

٭بحرین میں شاہ کی تصویر پھاڑنے والی کارکن کو سزا

بحرین واچ کی جانب سے چھپنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دراز نامی گاؤں میں تھری جی اور فور جی کی فراہمی میں خلل دیکھا کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دراز نامی یہ گاؤں شیعہ اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے اور شیعہ عالم شیخ عیسیٰ قاسم کا گھر بھی یہیں ہے جہاں یہاں حکومت مخالف مظاہرے کیے گئے تھے۔

بحرینی حکومت نے حال ہی میںشیخ قاسم کی شہریت منسوخ کی ہے۔

اگرچہ ایس ایم ایس سروس اور فون کالز معمول کے مطابق کام کر رہی تھیں لیکن ڈیٹا سروس میسر نہیں تھی۔

بحرین واچ کے مطابق ان کی جانب سے کیے جانے والے تجربے اور مشاہدے میں معلوم ہوا ہے کہ شام سات بجے سے شب ایک بجے تک’باٹیلکو‘ اور ’زین‘ کے تھری جی اور فور جی ٹاورز بند رہے جبکہ ٹوجی سروس پر موبائل فون پر یہ نوٹس ملتا تھا کہ موبائل ڈیٹا سروس کی سپورٹ میسر نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شیعہ عالم شیخ شیسٰ قاسم پر بحرینی حکومت نے ملایت کا الزام لگایا ہے

بحرین واچ نے لینڈ لائن سروس کو بھی چیک کیا۔

ادارے نے باٹیلکو نیٹ ورک کے آئی پی ایڈریس پر ’پنگز‘ ارسال کیے تاکہ ان کی مدد یہ پتہ چل سکے کہ آیا وہ انٹرنیٹ سے منسلک ہے یا نہیں؟

بحرین واچ کا کہنا ہے کہ جولائی میں کم وپیش 12 فیصد آئی پی ایڈریسز تین راتوں سے معمول سے ہٹ کام کرنے کے بجائے گڑبڑ کا شکار نظر آئے۔

بحرینی حکام نے اس رپورٹ پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ماضی میں بھی انٹرنیٹ کی سروس کو اکثر اوقات حکومتوں کی جانب سے بند کیا جاتا رہا ہے خاص طور پر ’عرب سپرنگ‘ کے دوران ایسا دیکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر ڈرون کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ سروس کی فراہمی میں بحرین میں ہونے والی یہ حالیہ گڑبڑ غیر معمولی اور ڈرامائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ عموماً ایک مایوس حکومت کی علامت ہے جو غیر قانونی اقدام کو آخری حربے کے طور پر استعمال کرتی ہے تاکہ لوگوں کو گلیوں میں آنے سے روکا جاسکے۔‘

اسی بارے میں