سنیپ چیٹ کے ’نسل پرستانہ‘ فیس فلٹر پر تنقید

سنیپ چیٹ کے ایک نئے متنازع فیس فلٹر پر ہزاروں افراد کی جانب سے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے، یہ فیس فلٹر مشرقی ایشیائی باشندوں کی شکل و صورت سے متعلق ہے اور اسے ’نسل پرستانہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

ناراض صارفین نے اسے ’زرد چہرہ‘ قرار دیا ہے اور اس میں صارف کی شکل ترچھی آنکھوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔

٭ فحش پوسٹ شائع کرنے پر سنیپ چیٹ پر مقدمہ

٭ سنیپ چیٹ کے صارفین کو ایپ کے استعمال میں مشکلات درپیش

٭ سنیپ چیٹ کا فیس بک اور ٹوئٹر سے مقابلہ

دوسری جانب سنیپ چیٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس متازع فلٹر کو ہٹا دیا ہے۔

ناقدین اس فیس فلٹر پر اکثر سفید رنگت کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہیں جو صارفین کی جلد کو گورا دکھاتا ہے۔

متنازع فیس فلٹر کو ’باب مارلے‘ فلٹر کا نام دیا گیا ہے جس میں گھنگریالے بال اور ایک ٹوپی شامل ہے اور اس کے ذریعے ’سیاہ چہرے‘ کو فروغ دینے پر بھی تنقید کی گئی تھی۔

سنیپ چیٹ نے بدھ کو ایک سرکاری بیان میں کہا ’متنازع فیس فلٹر کو ختم کر دیا گیا ہے اور وہ دوبارہ نظر نہیں آئے گا۔‘

دوسری جانب سنیپ چیٹ کے متعدد صارفین اب بھی مطمئن نہیں ہیں۔ وہ اس موضوع کو سوشل میڈیا پر لے گئے اور کمپنی سے ایشیائی باشندوں کے خلاف ’نسل پرستانہ‘ رویے کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

اداکار اور سلیبرٹی بلاگر لیٹریس بٹس نے لکھا ’بس کرو سنیپ چیٹ، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ زرد چہرے والا فلٹر اچھا نہیں ہے۔‘

دوسری صارفین جن میں تانسو فلپ بھی شامل ہیں کا کہنا ہے ’نسل پرستانہ فلٹرز خوبصورت نہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں