روسی ’پیزا ہیکر‘ پر امریکہ میں مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption ملزم پر ریاست واشنگٹن میں کئی ریستورانوں کا ڈیٹا ہیک کر کے کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام ہے

امریکہ میں پیزا ریستورانوں کو ہیکنگ کے ذریعے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار ایک روسی شہری کے خلاف مقدمے کی سماعت آئندہ ہفتے شروع ہونے والی ہے۔

استغاثہ کا الزام ہے کہ روس کے ایک رکن پارلیمان کے بیٹے رومن سیلزنیف اس منصوبے کے ’ماسٹر ہیکر‘ تھے جس کی وجہ سے تقریبا 17 لاکھ ڈالر کی دھوکہ دہی کی گئی۔

ملزم پر ریاست واشنگٹن میں کئی ریستورانوں کا ڈیٹا ہیک کر کے کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام ہے۔

تاہم اس نے وکلا کا کہنا ہے ان کے موکل کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں۔

استغاثہ کے گواہان میں میڈ پیزا، ذیڈپیزا، ویلج پیزا، کاسا میا اور دیگر ریستورانوں کے مالکان اور مینیجرز شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رومان سیلیزنیف کی گرل فرینڈ سینا اوتسکو سنہ 2014 میں پریس کانفرنس کے دوران آب دیدہ ہوگئی تھیں

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سیئٹل کے قریب واقع ریڈ پیپر پیزا کے مالک سٹیو بسنگ کو ہیکنگ کے بعد نیا کمپیوٹر سسٹم خریدنے پر دس ہزار ڈالر خرچ کرنے پڑے تھے۔

رومان سیلیزنیف اور ان کی گرل فرینڈ کو امریکی خفیہ سروس کے اہلکاروں نے سنہ 2014 میں مالدیپ کے ایئر پورٹ سے گرفتار کیا تھا۔

وہ روس کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان ولیری سیلیزنیف کے بیٹے ہیں۔

ان کے وکلا کا موقف ہے کہ سیلیزنیف جونیئر کی حراست ’اغوا‘ یا ایک ’غیرقانونی حوالگی‘ ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے تاہم امریکہ کے ڈسٹرکٹ جج نے اس دلیل کو مسترد کر دیا ہے۔

مبینہ طور پر یہ ہیکنگ منصوبہ سنہ 2008 اور سنہ 2014 تک جاری رہا تھا اور جولائی 2014 میں سیلیزنیف کی گرفتاری پر اختتام پذیر ہوا تھا۔

اسی بارے میں