اقوامِ متحدہ کا ہیٹی میں ہیضے کی وبا میں کردار کا اعتراف

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک داخلی انکوائری کو اس نے دیکھا ہے اور اسی کی بنیاد پر یو این نے اپنا موقف تبدیل کیا ہے

اقوامِ متحدہ نے بالاخر اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ہیٹی میں چھ برس قبل ہیضے کی وبا کے پھیلاؤ کے لیے وہ بھی کسی حد تک ذمہ دار ہے۔

اس وبا سے ہیٹی میں تقریباً 10،000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سائنس دانوں کی تحقیق سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے مشن میں شامل نیپالی فوجی اس وبا کا ذریعہ تھے تاہم اقوامِ متحدہ اب تک اس کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتا رہا تھا۔

اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس نے اس سلسلے میں ایک اندرونی سطح پر ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ دیکھی ہے اور اسی کی بنیاد پر اقوامِ متحدہ نے اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔

لیکن اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں متاثرین کے لواحقین کو کسی بھی طرح کا معاوضہ ادا کرنے کا اسے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اس لیے وہ کسی کو کوئی معاوضہ نہیں ادا کرے گی۔

جمعرات کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ایک ترجمان فرحان حق نے کہا کہ ’گذشتہ ایک برس کے دوران اقوام متحدہ اس بات سے قائل ہوا ہے کہ ہیضے کی وبا پھیلنے کے دوران اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے کام کرنے لیے اسے بہت کچھ مزید کرنے کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شکایات کے بعد اقوام متحدہ نے ایک خود مختار پینل قائم کیا تھا جو یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہیٹی میں ہیضے کی وباء کیسے پھیلی تھی

اس موقع پر فرحان حق نے یہ بھی کہا کہ چونکہ قانونی طور پر اس طرح کے معاملات میں یو این کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اس لیے معاوضے کے تعلق سے اس کی پوزیشن میں کوئی قانونی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے اس سے متعلق ابتدائی انکوائری رپورٹ کو دیکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہیضے کی وبا کے حوالے سے یو این نے جو اقدامات کیے تھے اس کے بغیر نہیں پھیلتی۔

اخبار کے مطابق اس سے متعلق رپورٹ بان کی مون کو گذشتہ ہفتے بھیجی گئی تھی۔

الزام ہے کہ ہیٹی میں ہیضے کی وبا یو این کی ایک مرکز میں سیوریج کے پائپوں کے لیک ہونے سے پھیلی تھی۔

متاثرین کے اہل خانہ نے اس سلسلے میں معاوضے کے لیے جو اپیلیں دائر کی تھیں اسے امریکہ کی عدالت پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔

شکایات کے بعد اقوام متحدہ نے ایک خود مختار پینل قائم کیا تھا جو یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہیٹی میں ہیضے کی وباء کیسے پھیلی تھی۔

اقوام متحدہ کی جانب سے یہ قدم ان شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے جن کے مطابق اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل جنوبی ایشیا کے اہلکاروں کی وجہ سے ہیضے کی وباء پھیلی تھی۔

اسی بارے میں