افریقہ میں ڈاکٹر ضرورت سے زیادہ ادویات تجویز کرتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ SCIENCE PHOTO LIBRARY

ایک نئی سائنسی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ افریقہ کے زیرِ صحارا علاقوں میں عام طور پر عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات سے کہیں زیادہ ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔

یہ بین الاقوامی تحقیق یونیورسٹی آف لنڈن اور گھانا ہیلتھ کنسلٹ نے مشترکہ طور پر کی اور ان میں نو زیرِ صحارا ملک شامل تھے۔

تحقیق سے پتہ چلا کہ ڈاکٹر مریضوں کو فی نسخہ اوسطاً تین ادویات لکھ کر دیتے ہیں، حالانکہ کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس کی اوسط شرح دو ادویات فی مریض فی نسخہ ہونی چاہیے۔

٭ پاکستان میں ایک بھی طبی نسخہ معیاری نہیں

تحقیق کے مطابق زیادہ مسئلہ پرائیویٹ اداروں میں نظر آیا جہاں زیادہ ادویات تجویز کرنے کا مطلب زیادہ منافع ہے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مریضوں کو ضرورت سے زیادہ ادویات دینے سے زیادہ غلطیاں پیش آ سکتی ہیں، اور مختلف ادویات کے آپس میں تعامل سے مضر اثرات رونما ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ سائنس دانوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ مریضوں کو بغیر تفصیلی معائنے کے اینٹی بائیوٹکس دی جا رہی ہیں، جس سے جراثیم کے اندر ان ادویات کے خلاف مدافعت پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں