شام: جڑواں بچےسفری دستاویزات کےانتظار میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بچوں کو بیرون ملک علاج کے لیےسفری دستاویزات نہ مل سکیں

شام میں دو جڑواں بھائی جن کے جسم جڑے ہوئے تھے بیرون ملک سفر کے لیے دستاویزات کے انتظار میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

نوراس اور معاذ 23 جولائی کو دوما کے زہرا ہسپتال میں آپریشن کے ذریعے پیدا ہوئے۔ پیدائش کے وقت بچوں کا وزن 12 پونڈ تھا۔

دوما قصبہ شامی باغیوں کے قبضے میں ہے لیکن گذشتہ دو برسوں سے صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے قصبے کو گھیر رکھا ہے اور عملاً کوئی چیز حکومتی افواج کی مرضی کے بغیر اس قصبے میں نہیں پہنچ سکتی۔

سیرین امریکن میڈیکل چیرٹی کی جانب سے اپیل کے بعد بشار الاسد کی حکومت نے 12 اگست کو دونوں بچوں کو اپنی ماں کے ہمراہ دمشق منتقل ہونے کی اجازت دی تھی۔

معاذ اور نوارس کے دھڑ سینے سے جڑے ہوئے تھے اور دونوں کا دل ایک ہی تھیلی میں تھا۔

سیرین امریکن میڈیکل چیرٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد قطب نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ پوری دنیا مل کر بھی ان بچوں کو شام سے باہر منتقل کرنے کی اجازت نہ حاصل کر سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شام کی حکومت نے میڈیکل چیرٹی کی اپیل پر بچوں کو دوما سے باہر منتقل کرنے کی اجازت دی تھی

محمد قطب نے پچھلے ہفتے وال سٹریٹ جنرل کو بتایا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ بچوں کو بیرون ملک سفر کی اجازت اس لیے نہیں دی جا رہی کیونکہ ان کے علاج کی پیشکش امریکہ اور سعودی عرب سے آئی تھی۔

شام کی حکومت سمجھتی ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ بشار الاسد کے مخالف باغیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

شامی حزب مخالف کی حامی ویب سائٹ اینب بلادی نے محمد قطب کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام کی وزارت خارجہ کی مداخلت کی وجہ سے بچوں کو بیرون ملک سفر کی ضروری دستاویزات جاری نہیں کی جا سکیں۔

محمد قطب نے پیر کے روز اپنے ایک اور ٹوئٹر پیغام میں لکھا: ’نوراس اور معاذ ایک ماہ کے ہونے والے ہیں، وہ ابھی تک شام سے نکلنے کے لیے بیہودہ طریقہ کار کی وجہ سے وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

محمد قطب نے 48 گھنٹے بعد اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ لڑکے اب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں۔

اسی بارے میں