’مائیکرو سافٹ ایکسل جینز کی تحقیق میں اغلاط کا ذمہ دار‘

تصویر کے کاپی رائٹ ALFRED PASIEKASCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption مائیکروسافٹ نے سنہ 1985 میں ایکسل کا پہلا ورژن ریلیز کیا تھا

جینوم سے متعلق ایک تحقیق کے مقالوں میں غلطیوں کا ذمہ دار مائیکرو سافٹ ایکسل کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔

محققین اب اس مسئلے کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سافٹ ویئر کی سپریڈ شیٹس نے خود کار طریقے سے مخصوص جینز کے ناموں کو تاریخوں میں تبدیل کر دیا۔

٭ ایکسپلورر میں سنگین خامی کا انکشاف

مثال کے طور پر جن جینز کے لیے علامت SEPT2 ( سیپٹ ٹو) تھی وہ اب تبدیل ہو کر ستمبر دو ہوگیا۔

تاہم دوسری جانب مائیکروسافٹ جس نے سنہ 1985 میں ایکسل کا پہلا ورژن ریلیز کیا تھا کا کہنا ہے کہ جینز کے ناموں میں ہونے والی اس غلطی کو صارف خود ٹھیک کر سکتا ہے اور اس کے لیے اسے سیٹنگ ایپلیکیشن کا استعمال کرنا ہوگا۔

بی بی سی سے گفتگو میں مائیکرو سافٹ کے ترجمان نے بتایا کہ ایکسل پر ڈیٹا اور تحریری مواد مختلف طریقے سے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈیفالٹ سیٹنگز کا مقصد روزمرہ کے منظر نامے پر کام کرنا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایکسل صارف کو یہ سہولت فراہم کر تا ہے کہ وہ اپنی مخصوص ضروریات کے تحت ڈیٹا یا مواد کو پیش کر سکے۔

تحقیق میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیٹا یا مواد کی ایک سے دوسری شکل میں منتقلی کے حوالے سے ایکسل کی سپریڈ شیٹ جیسا مسئلہ ’اپاچی اوپن آفس کالک‘ میں بھی دیکھا گیا تاہم یہ مسئلہ گوگل شیٹس میں نہیں دیکھا گیا۔

’پانچواں حصہ‘

محققین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ایکسل کی دستاویزات پر موجود ڈیٹا کے تمام پیپرز کے پانچویں حصے میں نظر آیا ہے۔

میلبرن کے اکیڈیمک انسٹی ٹیوٹ، بیکٹر آئی ڈی آئی کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے اپنی تحقیق کے لیے 3597 سائنسی مقالے شائع کیے۔

اس دوران انھیں معلوم ہوا کہ ان پیپرز میں سے 704 پیپرز میں ایکسل کی غلطی کی وجہ سے جینز کے نام غلط تھے۔

یورپ میں حیاتیات سے متعلق ایک ادارے یورپین بایو انفارمیٹک انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ایون بیرنی اس غلطی کی ذمہ داری ایکسل پر عائد نہیں کرتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ کلینیکل ٹرائلز کے لیے ایکسل کی سپریڈ شیٹس پر انحصار نے مایوس کیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ سائنس کے شعبے سے منسلک لوگ گذشتہ ایک دہائی سے اب بات سے آگاہ ہیں کہ ایکسل میں جینز کے ناموں سے متعلق مسئلہ موجود ہے۔

ایون بیرنی یہ تجویز کرتے ہیں کہ ایکسل کو ہلکی نوعیت کے سائینسی تجزیوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

’وقت طلب‘

یہ تحقیق کرنے والے تین محققین میں سے ایک آسم ایل اوسٹا کا کہنا ہے کہ یہ غلطیاں اس تعلیمی تحقیق میں شامل کی جانے والی اضافی ڈیٹا شیٹس میں سامنے آئی ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اضافی صفحات میں کچھ اہم ڈیٹا موجود تھا، جس میں بہت سی معلومات تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس غلطی کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔

بیکر آئی ڈی آئی کی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنہ 2004 میں بھی ایکسل نے کچھ مخصوص جینز کا نام تبدیل کر دیا تھا اور یہ مسئلہ گذشتہ پانچ سالوں میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد بڑھا ہے۔

اسی بارے میں