سنگاپور میں زیکا وائرس کے 41 کیسز کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ وائرس مچھروں سے پھیلتا ہے لیکن جنسی عمل سے بھی یہ منتقل ہوجاتا ہے
سنگاپور کے حکام نے مقامی طور پر منتقل ہونے والے زیکا وائرس کے 41 کیسز کی تصدیق کی ہے۔

وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کا شکار ہونے ولے زیادہ تر لوگ غیر ملکی تعمیراتی مزدور ہیں اور یہ سب اسی علاقے میں مقیم اور کام کر رہے تھے۔

٭ میامی میں زیکا وائرس کے بعد خواتین کے لیے الرٹ جاری

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین میں سے کسی نے بھی حال ہی میں زیکا وائرس سے متاثرہ علاقے کا سفر نہیں کیا۔ 37 افراد پوری طرح صحت مند ہو چکے ہیں لیکن سات اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

زیکا کی بظاہر بہت ہلکی سی علامات ہوتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے پیدائش کے قبل ہی بچوں میں انتہائی نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔

اس سے زیادہ تر بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔

یہ بیماری مچھروں سے پھیلتی ہے لیکن جنسی عمل سے بھی یہ وائرس منتقل ہوجاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے فروری میں اسے صحت سے متعلق ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زیکا سے متاثر ہونے کے بعد زیادہ تر بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں

سنگاپور نے زیکا کے پہلے درآمد شدہ کیس کی تصدیق مئی میں کی تھی جس میں برازیل سے لوٹنے والا ایک 48 سالہ شخص شامل تھا۔

سنیچر کو بتایا گیا کہ ایک 37 سالہ ملائشین خاتون مقامی طور پر اس وائرس سے متاثر ہوئیں۔ وہ اب تک پہلی خاتون ہیں جو اس سے متاثر ہوئی ہیں۔

اتوار کو زیکا وائرس سے متاثرہ افراد کی تصدیق کے بعد اس تعمیراتی مقام پر کام روک دیا گیا ہے۔ وہاں ان مزدوروں کی رہائش پر صفائی کی ناقص صورتحال کو مچھروں کی افزائش کا ممکنہ مقام قرار دیا گیا ہے۔

وزراتِ صحت کا کہنا ہے کہ دوسرے علاقوں میں اس وائرس کی منتقلی کا امکان موجود ہے کیونکہ سنگاپور کے دیگر علاقوں سے بھی دو کیسز سامنے آئے ہیں۔

بیان کے مطابق ’امکان ہے کہ مزید کیسز بھی سامنے آئیں۔‘

اسی بارے میں