’گرین لینڈ میں زندگی کی قدیم ترین نشانیاں پنہاں‘

Image caption ہ چٹانیں تقریبا پونے چار ارب برس پہلے سمندری سطح پر لہروں کا حصہ تھیں، یعنی زمانہ قدیم کی مائیکرو بائیل کالونیوں کی باقیات جنھیں سٹرومیٹولیٹیز کہا جاتا ہے

محققین کا خیال ہے کہ دنیا میں زندگی کی قدیم ترین نشانیاں گرین لینڈ میں پائی جانے والی قدیم ترین چٹانوں پر موجود لہروں کے نشانوں میں پوشیدہ ہو سکتی ہیں۔

یہ چٹانیں تقریباً پونے چار ارب برس پہلے سمندر کے فرش پر موجود تھیں اور ان پر پائے جانے والے چند سینٹی میٹر طویل لہر دار نشان ان زمانہ قدیم کی مائیکروبائل کالونیوں کی باقیات ہو سکتی ہیں جنھیں سٹرومیٹولیٹیز کہا جاتا ہے۔

اس تحقیق سے متعلق شواہد کو اکیڈمک جرنل ’نیچر‘ میں پیش کیا گيا ہے۔

اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ نو آبادیات پہلے سے معلوم شدہ قدیم ترین باقیات کے مقابلے میں تقریباً 20 کروڑ برس قدیم ہو سکتی ہیں۔

یعنی آج کے مقابلے میں اگر اس زمانہ قدیم کی بات کریں تو یوں سمجھ لیں کہ یہ وہ دنیا ہوگی جب پہلے ڈائنوسارز زمین پر موجود ہوں گے۔

لیکن جس طرح بہت ہی قدیم زمانے کی زندگی کے متعلق ہونے والے تمام دعوے ایک دوسرے کے مخالف ہیں، یہ دعویٰ بھی اسی طرح کا ہے۔

یہ دریافت گرین لینڈ کے ویران علاقے میں ہوئی ہے۔ مذکورہ چٹانوں یا پتھروں پر مستقل طور پر برف جمی رہتی تھی جو حال ہی میں پگھلی جس کی وجہ سے یہ ظاہر ہوئیں۔

جیو سائنس کے تعلق سے یہ علاقہ اس لیے بہت مشہور ہے کیونکہ زمین کی سطح پر بچنے والا یہ قدیم ترین ٹکڑا ہے۔

سنہ 1990 میں گرین لینڈ کے ہی ایک مقامی جیولوجی کے پروفیسر منک روزنگ نے ان چٹانوں کی زندگی سے متعلق کیمیکل نشانات کی نشاندہی کی تھی۔

پروفیسر روزنگ نے یہ کہا تھا کہ اس کے جرثومے سطح سمندر میں رہتے ہوئے سورج کی روشنی حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ ایک وقت پر وہ مردہ ہو کر سمندر کی تہہ میں چلے گئے۔

ان فوسل کے ڈھانچوں پر تلچھٹ کی ایک اور پرت جم گئی یعنی ایک اور ثبوت کہ جرثومے طوفان کے دوران کیچڑ اور ریت میں دفن ہوکر ختم ہوئے۔

پروفیسر وین کریڈوک کہتے ہیں کہ ’اس بات کے بہت سے شواہد ہیں کہ یہ بہت ہی اتھلے پانی کا ماحول تھا۔ ہم ریت اور پتھروں کو دیکھ سکتے ہیں کہ وہ طاقت ور لہروں کے سبب اپنی جگہ سے منتقل ہوئیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ وہاں حقیقی جرثوموں کے نشانات تو نہیں ملے بلکہ ان ٹیلوں کے ملے جو انھوں نے بنائے۔ لیکن ان کے بقول یہ بھی بہت اہم ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ یہ ہمیں یہ سوچنے میں مدد کرتی ہے کہ آخر کرہ ارض پر زندگی کا ارتقا کیسے ہوا، یہ عمل کتنا تیز تھا۔ یہ ہمیں تھوڑا اور آگے لے جاتا ہے، اس فرق کم کم کردیتا ہے کہ جب ہم کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور جب ہم نے جاننا شروع کیا۔‘

لیکن پرفیسر روزنگ اس تجزیے کے ہر پہلو سے متفق نہیں ہے اور اس تجزیے کو پوری طرح تسلیم نہ کرتے ہوئے اسے مستر کرتے ہیں۔

اختلافات کے باوجود جو اس بارے میں جو بات مشترک ہے وہ یہ کہ جس زمانے کی یہ چٹانیں ہیں اس وقت زمین پر زندگی کا وجود تھا اور اس سے اس وقت کی حیات کے متعلق مزید جاننے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں