امریکہ اور چین نےعالمی ماحولیاتی معاہدے کی توثیق کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین میں توانائی کا زیادہ انحصار کوئلے سے بجلی کرنے والے پلانٹس پر ہے

دنیا میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے دونوں بڑے ذمہ دار ممالک، امریکہ اور چین نے عالمی حدت پر قابو پانے کے ’پیرس معاہدے‘ کی منظوری دے دی ہے۔

چین کی جانب سے اس کا اعلان سنیچر کو چین کے شہر ہانژوا میں ’جی 20‘ گروپ کے رکن ممالک کے اجلاس کے موقع پر کیا گیا اور جب امریکی صدر براک اوباما اس اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو امریکہ کی جانب سے بھی پیرس معاہدے کی توسیع کا اعلان کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ عالمی حدت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافہ ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں عالمی رہنماؤں نے پیرس میں سنہ 2050 تک دنیا کے درجہ حرارت میں اوسط اضافے کو دو ڈگری تک محدود کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

* محض ایک معاہدہ یا ایک نئی تاریخ؟

*پیرس معاہدہ کرۂ ارض کو بچانے کا بہترین موقع ہے: اوباما

سنیچر کی صبح چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا تھا کہ ملک کے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے نے پیرس میں ہونے والے عالمی ماحولیاتی معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا نیوز کے مطابق نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے اس معاہدے کی منظوری دے دی۔

چین کی طرف سے معاہدے کی توسیع کے اعلان سے قبل جو 23 ممالک اس کی توسیع کر چکے ہیں عالمی سطح پر مضر گیسوں کے اخراج میں مجموعی حصہ صرف ایک فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

چین کی جانب سے اعلان کے بعد وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ آج کا اعلان صدر براک اوباما اور صدر شی کے دور حکومت کا ایک اہم سنگ میل ہے اور عالمی سطح پر ماحولیات کے حوالے سے دونوں صدور کی رہنمائی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پریس معاہدے کو اِس سال عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘

دنیا میں طے پانے والے پہلے جامع ماحولیاتی معاہدے پر اس وقت تک قانونی طور پر عمل درآمد شروع نہیں ہو سکتا جب تک عالمی سطح پر 55 فیصد کاربن کے اخراج کے ذمہ داری ممالک اس کی توثیق نہیں کر دیتے۔

اس وقت دنیا میں عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والی CO2 گیس یا کاربن کا اخراج سب سے زیادہ چین میں ہوتا ہے۔

اگر چین کے ساتھ امریکہ کو بھی شامل کر لیں تو دنیا بھر میں خارج ہونے والے نقصان دہ گیسوں میں دونوں ممالک کا حصہ 40 فیصد بنتا ہے۔

جی 20 کے سربراہ اجلاس سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ چین اور امریکہ کانفرنس سے پہلے یا اس کے دوران پیرس کانفرنس معاہدے کی مشترکہ طور پر توثیق کا اعلان کر دیں گے۔

چین میں پیرس معاہدے کی منظوری کے بعد اسے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو بند کرنا ہو گا جب کاربن کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

اسی بارے میں