’ریو اولمپکس میں کوئی بھی فرد زیکا سے متاثر نہیں ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2015 میں برازیل میں پھوٹنے والا یہ وائرس بچوں میں پیدائشی نقائص کا سبب بنا تھا

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ریو اولمپکس کے دوران کھلاڑیوں یا وہاں سفر کرنے والے کسی بھی فرد میں زیکا کا مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے یہ پیشن گوئی کہ کھیلوں کی وجہ سے زیکا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ نہیں ہے درست ثابت ہوئی ہے۔

کچھ طبی ماہرین نے عالمی ادارہ صحت کو اولمپکس مقابلوں کو موخر کرنے یا کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کا مطالبہ نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم دوسری جانب ایک تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ افریقہ اور ایشیا میں تقریبا دو ارب افراد کو زیکا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

جنیوا میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی پروگرام کے سربرساپ پیٹر سالما کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس مسافروں یا کھلاڑیوں میں سے کسی کا زیکا سے متاثر ہونے کا مصدقہ کیس نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پیرا اولمپکس سات ستمبر سے شروع ہونے والے ہیں۔ ’ہم پرامید ہیں خطرات کا جائزہ لیا جائے گا اور اس میں کچھ اضافی خطرات ہوں گے۔‘

عالمی ادارہ صحت نے اولمپکس مقابلوں سے قبل حاملہ خواتین کو ان کھیلوں کے لیے سفر کرنے کے خلاف تنبیہ کی تھی اور دیگر مسافروں کو مچھروں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کے مطابق موسم گرما میں اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے

خیال رہے کہ اب تک زیکا 65 ممالک میں پھیل چکا ہے۔ یہ وائرس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اور حال ہی میں یہ افریقہ پہنچا ہے۔

سنہ 2015 میں برازیل میں پھوٹنے والا یہ وائرس بچوں میں پیدائشی نقائص کا سبب بنا تھا جہاں متعدد بچے چھوٹے سر کے ساتھ پیدا ہوئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اب بھی لاتعداد لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ وائرس کس طرح سے پھیلتا ہے اور یہ کہ کس قسم کا مچھر اس کے پھیلاؤ کا سبب ہے۔

ماہرین کے مطابق موسم گرما میں اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ رہا کیونکہ اس وقت لوگوں نے امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کا سفر زیادہ کیا۔

گرم درجہ حرارت کا مطلب ہے کہ مچھر زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں اور یہ وائرس پھیلا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں