پہلا ’فیس ٹرانسپلانٹ‘ کروانے والی خاتون کا انتقال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپریل میں 49 برس کی عمر میں انھیں کینسر ہو گیا تھا

فرانس میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چہرے کا اولین ٹرانسپلانٹ کروانے والی خاتون ازابیل انتقال کر گئی ہیں۔

ازابیل کا چہرہ ان کے پالتو کتے نے حملہ کر کے مسخ کر دیا تھا اور سنہ 2005 میں ڈاکٹرز نے سرجری کر کے انھیں ایک نئی ناک اور نیا منہ دیا تھا۔

تاہم سرجری کے بعد ادویات کے استعمال کے باعث وہ کافی کمزور ہو گئی تھیں اور پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار ہیو سکوفیلڈ کے مطابق اپریل میں 49 برس کی عمر میں انھیں کینسر ہو گیا تھا۔

ان کی موت کی خبر ایمینز کے ہسپتال نے دی تاہم ان کے خاندان کی ذاتیات کا احترام کرتے ہوئے اس اعلان میں تاخیر کی گئی۔

ازابیل نے سنہ 2009 میں بی بی سی کو بتایا تھا جب وہ آئینہ دیکھتی ہیں تو انھیں اپنی اور اعضا عطیہ کرنے والے فرد دونوں کی شبیہ دکھائی دیتی ہے۔

Image caption بظاہر کتا انھیں بے ہوش پا کر انہیں اٹھانا چاہتا تھا اور اس کوشش میں اس نے ان کا چہرہ چبا ڈالا

فیگارو نامی اخبار کہ مطابق ان کے جسم نے ایک دوسرا ٹرانسپلانٹ بھی مسترد کر دیا تھا۔ اس وجہ سے انھیں کافی طاقت ور ادوایات دی گئیں جو کینسر کا سبب بنیں۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ازابیل نے کہا تھا کہ ان کا پالتو کتے کے ہاتھوں چہرہ مسخ کیا جانا دراصل اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کا نتیجہ تھا۔

انھوں نے نیند کی گولیاں زیادہ مقدار میں کھا لیں تھیں اور جب وہ جاگیں تو خود کو خون میں لت پت پایا اور ان کا کتا قریب ہی موجود تھا۔

بظاہر کتا انہیں بے ہوش پا کر انہیں اٹھانا چاہتا تھا اور اس کوشش میں اس نے ان کا چہرہ چبا ڈالا۔

ان کے منہ، ناک اور ٹھوڑی پر آنے والے زخم شدید نوعیت کے تھے اور ڈاکٹروں نے معمول کی پیوند کاری کو مسترد کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وہ اس سرجری سے خوش تھیں لیکن میڈیا اور لوگوں کی جانب سے ملنے والی توجہ پر کافی پریشان تھیں

اس کے بجائے انھوں نے پہلی مرتبہ چہرے کے ٹرانسپلانٹ کا مشورہ دیا۔

وہ اس سرجری سے خوش تھیں لیکن میڈیا اور لوگوں کی جانب سے ملنے والی توجہ پر کافی پریشان تھیں۔

حالیہ برسوں میں امریکہ، چین، ترکی، سپین اور پولینڈ سمیت کئی ممالک میں چہرے کے ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں