’چین ہمیں سیلابوں کے بارے میں بروقت مطلع کرے‘

Image caption چینی ماہرین کی تحقیق کے مطابق تبت میں برفانی تودے تیزی سے پگل رہے ہیں

بھارت اور نیپال کا کہنا ہے کہ تبت میں پائی جانے والی برفانی جھیلوں اور دریاؤں کے بارے میں چین کی جانب سے بروقت معلومات نہ ملنے کی وجہ سے انھیں سیلابوں کے حوالے سے تیاری کرنے میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔

تبت اور نیپال کے سرحدی علاقے میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں تودے گرنے اور چھوٹے قدرتی ڈیموں کے پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

چینی ماہرین کی تحقیق کے مطابق تبت میں برفانی تودے تیزی سے پگھل رہے ہیں اور زلزلے بھی انھیں غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق تبت ان جگہوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں برف کے پگھلنے کی وجہ سے پانی کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سطح مرتفع تبت پر ڈیموں کی تعمیر اور کان کنی کے پروجیکٹس کی وجہ سے بھی ڈاؤن سٹریم یا جنوبی ممالک یعنی نیپال اور بھارت میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

تبت سے بروقت تنبیہ کی عدم موجودگی میں بھوٹان، نیپال، بھارت اور ممکنہ طور پر بنگلہ دیش میں جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ جولائی میں پیش آیا جب نیپال میں سرحدی قصبوں میں کچھ عمارتیں یک دم سیلاب آنے سے بہہ گئیں۔ نیپالی حکام کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ تبّت میں بھوتیکوشی دریا میں تودے گرنا تھی۔ یہ دریا ان کئی دریائوں میں سے ایک ہے جو کہ تبّت میں شروع ہوتا ہے اور نیپال میں سے گزرتے ہیں۔

تبّت کی سرحد کے قریب واقعے اہم نیپالی قصبے لیپنگ میں زیادہ مکانات سیلاب کی وجہ سے یا تو بہہ گئے ہیں یا پھر شدید متاثر ہو چکے ہیں۔

Image caption تبت سے جلد تنبیہ کی عدم موجودگی میں بھوٹان، نیپال، بھارت اور ممکنہ طور پر بنگلہ دیش میں جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے

ادھر براویس اور دیگر چھوٹی آبادیوں میں کئی مکانات انتہائی نازک حالت میں معلوم ہوتے ہیں۔یہ وہی علاقہ ہے جو کہ گذشتہ سال کے زلزلے میں شدید متاثر ہوا تھا۔

دکاندار نمجی شرپا ایک جانب اشارہ کر کے بتاتی ہیں کہ ’وہاں میرا مکان ہوتا تھا۔ اب وہاں آپ کو دریا کے اوپر کھائی نظر آتی ہے۔ اس رات ہمیں رشیے داروں سے کال آئی کہ سیلاب ہماری جانب آ رہا ہے اور میں نے جلدی میں اپنے بوڑھے شوہر کو اونچی سطح پر دھکیل کر لےگئی۔‘

نمجی شرپا کو تیسری بار قدرتی آفات کی وجہ سے بکھر جانے والی اپنی زندگی کو سمیٹنا پڑ رہا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ اگلی صبح جب ہم اپنا مکان دیکھنے آئے تو وہاں کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ ’پچھلے سال ہمارا مکان زلزلے میں تباہ ہو گیا تھا اور اب سیلاب سب لے گیا ہے۔‘

’حکام نے اب ہم سے کہا کہ ہم ایک میٹر کی بلندی پر جا کر رات گزاریں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ رات کو کیا ہو سکتا ہے۔ ہم اس طرح کیسے زندہ رہیں۔‘

ضلع سندھوپاچوک حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ جولائی میں سیلابی ریلوں کے آنے سے پہلے عوام کا انخلا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

ضلعی اہلکار گوکارنہ دوادی کا کہنا ہے کہ ’ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اپنے ہی تنبیہی نظام کی وجہ سے لوگوں کو بچا سکے تاہم تبت کی جانب سے جلد معلومات آنے کی صورت میں ہم لوگوں کے مکانات بھی بچا سکتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں