’نئے آئی فون میں آخر نیا کیا ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک سال کے انتظار کے بعد بالآخر جب ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے نیا آئی فون متعارف کروایا تو اس کے ردِعمل میں انٹرنیٹ پر ہر طرف لے دے ہونے لگی ہے۔ اکثر لوگوں نے تان اس بات پر توڑی ہے کہ نئے آئی فون میں کوئی چیز نئی نہیں۔

ایپل کی بھرپور کوشش کے باوجود آئی فون 7 کا کوئی فیچر ایسا نہیں تھا جو ہفتوں پہلے ہی انٹرنیٹ پر افشا ہو کر موضوعِ بحث نہ بن چکا ہو۔

٭ نئے آئی فون میں ہیڈفون جیک ختم

تاہم اب جب کہ اصل پروڈکٹ سامنے آ گئی ہے، دنیا بھر میں اس کے بارے میں گرماگرم بحث جاری ہے۔ اکثر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپل میں تخلیقی صلاحیت باقی نہیں رہی کیوں کہ اس نے دو سال پرانا ڈیزائن ہی دوبارہ سے جھاڑ پونچھ کر پیش کر دیا ہے، اور اس دوران سام سنگ، ایچ ٹی سی، موٹرولا اور دوسری کمپنیاں ایپل سے میلوں آگے جا چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ڈیزائن کے علاوہ لوگوں کو سب سے زیادہ اعتراض اس بات پر ہے کہ نئے آئی فون میں ہیڈ فون جیک نہیں ہے، اس کی بجائے انھیں پرانے ہیڈفون منسلک کرنے کے لیے الگ اڈاپٹر استعمال کرنا پڑے گا۔

آئی فون نے ’ایئر پاڈ‘ کے نام سے وائرلیس ہیڈفون متعارف کروائے ہیں لیکن ان کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ بڑی آسانی سے گم ہو سکتے ہیں۔ کارلز بارکلی ٹوئٹر پر لکھتے ہیں:

’ذرا سوچیے کہ کتنے بچے، جانور، اور نشے میں دھت لوگ کتنے ائیرپاڈ نگل لیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اندرونِ جسم بھی کام کرتے رہیں گے؟‘

روائیدہ عبدالعزیز نے ٹویٹ کی: ’حجاب کے اندر وائرلیس ہیڈ فون استعمال کرتے ہیں ایسا لگے گا جیسے میں خود سے باتیں کر رہی ہوں۔ لوگ پہلے ہی مجھ سے ڈرتے ہیں!‘

ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا:

سٹیریو سپیکر: پرانی خبر، دہرا کیمرا: پرانی خبر، واٹر پروفنگ: پرانی خبر، وائرلیس ہیڈفون: پرانی خبر، آخر اس نئے آئی فون میں نیا کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اکثر لوگوں نے مہنگے ایئرپاڈ ہیڈفون (قیمت 159 ڈالر) پر اعتراض کیا ہے

کریتیکا نرولا نے ٹویٹ کیا:

ہیڈ فون جیک نہیں، ہوم بٹن نہیں، وائرلیس چارجنگ پورٹ نہیں، لگتا ہے جلد ہی آئی فون بھی غائب ہو جائے گا۔

تو پھر ایپل نے ہیڈفون جیک اور ہوم بٹن ہٹانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

اصل میں سمارٹ فونز کے درمیان سلِم نظر آنے کی وہ دوڑ چلی ہے کہ اس کے آگے سپر ماڈلز کے درمیان وزن کم کرنے کا مقابلہ بچوں کا کھیل لگتا ہے۔ ہر کمپنی کی کوشش ہے کہ اس کا فون پتلے سے پتلا ہو۔ ظاہر ہے کہ فون جتنا پتلا ہو گا اس کے اندر بیٹری کا سائز بھی کم ہوتا چلا جائے گا۔

اپیل کی کوشش ہے کہ وہ پہلے سے موجود فیچر ہٹا کر فون کے اندر زیادہ بڑی بیٹری اور دوسری جدتوں کے لیے جگہ پیدا کرے۔ چنانچہ نئے آئی فون کی بیٹری پہلے کی نسبت زیادہ بڑی کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایپل نے فالتو جگہ کو ایک اور سپیکر لگانے کے لیے استعمال کیا ہے، چنانچہ اب پہلی بار صارفین اپنے آئی فون پر سٹیریو آواز سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

تاہم ایسا ہی نہیں کہ ہر طرف ہی سے ایپل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہو۔ ٹیکنالوجی گرو جولی آسک نے امریکی ریڈیو این پی آر کو بتایا: ’صارفین آئی فون 7 میں انجینیئرنگ کے کارنامے نظرانداز کر رہے ہیں، مثلاً آڈیو، کیمرا، پروسیسنگ پاور، اور وہ بھی اتنے چھوٹے پیکیج میں۔‘ آسک کے مطابق آئی فون کی فروخت شروع میں تھوڑی مندی کے بعد اٹھنا شروع ہو گی۔

بعض ماہرین مشورہ دے رہے ہیں کہ لوگوں کو اصل اپ ڈیٹ کے لیے آئی فون 8 کا انتظار کرنا چاہیے۔ انٹرنیٹ پر گرم افواہوں کے بازار کے مطابق 2017 میں آنے والے آئی فون میں انقلابی فیچر متعارف کروا رہا ہے۔

ٹوئٹر کے صارف @LewBruh لکھتے ہیں:

’میں تو آئی فون 8 کا انتظار کروں گا، کیوں کہ یہ آئی فون کی دسویں سالگرہ ہے۔ اس میں کوئی بڑی چیز آئے گی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں