ماں کے بغیر بچہ پیدا کرنا ممکن ہو سکے گا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ ایک دن بیضوں کے بغیر بچے پیدا کرنا ممکن ہو سکے گا۔

یاد رہے کہ بچے باپ کی طرف سے سپرم اور ماں کی جانب سے بیضے کے ملاپ سے بنتے ہیں۔ لیکن اب سائنس دان کہتے ہیں کہ انھوں نے چوہے کے سپرم سے بغیر بیضے کے تندرست بچے پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق مستقبل بعید میں عورتوں کو بچہ پیدا کرنے کی ذمہ داریوں سے عہدہ برا کرنا ممکن ہو جائے گا۔

٭ تجربہ گاہ میں تیار شدہ سپرم سے بچوں کی پیدائش

فی الحال اس تحقیق سے عملِ تولید کی بعض جہتوں پر روشنی پڑی ہے۔

یونیورسٹی آف باتھ کے سائنس دانوں نے تجربات کا آغاز ایک ایسے بیضے سے کیا جو ابھی بارآور (فرٹیلائز) نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے ایسے کیمیکل استعمال کیے جن سے یہ بیضہ بغیر سپرم کے جنین (ایمبریو) میں تبدیل ہو گیا۔

یہ ’مصنوعی‘ جنین تقسیم کے عمل اور ڈی این اے کو کنٹرول کرنے کے لحاظ سے عام خلیوں سے ملتے جلتے ہیں۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر ان مصنوعی جنین میں سپرم داخل کرنے سے صحت مند بچے پیدا ہو سکتے ہیں تو پھر ایک دن یہ بھی ممکن ہو سکے گا کہ انسانوں میں ایسے خلیوں سے جنین بنائے جا سکیں جو بیضے نہ ہوں۔

چوہوں پر تجربات سے پتہ چلا کہ اس طریقے سے کامیاب حمل کے امکانات چار میں سے ایک ہوتے ہیں۔

ایک تحقیق کار ڈاکٹر ٹونی پیری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی نے یہ دکھایا ہے کہ بیضے کے بغیر کوئی اور خلیہ بھی سپرم سے مل کر بچہ پیدا کر سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس سے 200 سال پرانی سوچ الٹ کر رہ گئی ہے۔‘

اس طریقے سے پیدا ہونے والے بچے نہ صرف خود صحت مند تھے بلکہ انھوں نے معمول کے مطابق زندگی گزار کر صحت مند بچے بھی پیدا کیے۔

Image caption اس طریقے سے پیدا ہونے والے بچے ہر لحاظ سے صحت مند تھے

سائنس دان یہ بھی سمجھنا چاہتے تھے کہ بارآوری کا عمل کیسے رونما ہوتا ہے کیوں کہ سپرم کے بیضے سے ملاپ کے عمل کے بعض پہلو اب بھی اسرار کے پردوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر بیضہ سپرم کے ڈی این اے کے غلاف مکمل طور پر اتار کر اسے نئے غلاف پہنا دیتا ہے، جس سے سپرم سپرم کی طرح عمل کرنے کی بجائے بیضہ کی طرح طرح عمل کرنے لگتا ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ’لباس کی یہ تبدیلی‘ کس طرح رونما ہوتی ہے۔

بیضے کی ضرورت سے چھٹکارا پانے کے معاشرے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

ڈاکٹر پیری کہتے ہیں: ’امکان ہے کہ مستقبل بعید میں ایسا ممکن ہو سکے گا کہ جسم کے ایک عام خلیے کو سپرم کے ساتھ ملا کر جنین تخلیق کیا جائے۔‘

دوسرے الفاظ میں ممکنہ طور پر دو مردوں میں سے ایک سپرم اور دوسرا ایک عام خلیہ دے کر عورت کی ضرورت کے بچہ پیدا کر سکیں گے۔

یا پھر ایک ہی مرد اپنا سپرم اور ایک عام خلیہ دے کر بچہ پیدا کر سکے گا۔ اس طرح پیدا ہونے والا بچہ اس مرد کا کلون نہیں بلکہ غیر مماثل جڑواں بھائی کی طرح ہو گا۔

تاہم ڈاکٹر پیری نے زور دیا کہ فی الحال اس قسم کی صورتِ حال ’تصوراتی اور خیالی‘ ہے۔

اس سے قبل اسی سال چینی سائنس دانوں نے سٹیم سیلز سے سپرم بنا کر اس کی مدد سے ایک بیضے کو باآور کر کے چوہے کے صحت مند بچے پیدا کیے تھے۔

ڈاکٹر پیری کہتے ہیں ان دونوں تحقیقات کو ملا کر سپرم اور بیضے دونوں کی ضرورت سے گلوخلاصی حاصل کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں