’ہیکر انٹرنیٹ کو تباہ کرنے کے درپے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Think Stock

انٹرنیٹ سکیورٹی کے ایک ماہر نے خبردار کیا ہے کہ نامعلوم ہیکر انٹرنیٹ کو تباہ کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے درپے ہیں۔

ایک بلاگ پوسٹ میں سائبر سکیورٹی کے ماہر بروس شنائر لکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ کے اہم اداروں پر ایک سال سے مربوط حملے جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ حملے ان کلیدی اداروں کے دفاعی نظام میں رخنے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو انٹرنیٹ کے اہم حصوں کی نگرانی پر مامور ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کے ’ابتدائی اندازے‘ کے مطابق ان سلسلہ وار حملوں کے پیچھے چین یا روس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

شنائر نے لکھا ہے کہ ہیکر ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس (ڈی ڈوس) قسم کے حملوں کی مدد سے دفاعی نظام کی کمزوریاں تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان حملوں میں کسی ویب سائٹ پر بےتحاشا ڈیٹا بھیج کر اسے مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ہیکر ویب سائٹ کے مالکان کو ڈی ڈوس کی دھمکی دے کر تاوان وصول کرتے ہیں۔

تاہم شنائر کہتے ہیں کہ کلیدی انٹرنیٹ کمپنیوں پر کیے جانے والے ڈی ڈوس حملوں کی نوعیت مختلف ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ یہ حملے کہیں بڑے پیمانے پر کیے جا رہے ہیں اور ان کا دورانیہ بھی عام حملوں سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ حملے زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں کیوں کہ اس میں بھیجے جانے والا ڈیٹا سلسلہ وار لہروں کی شکل میں ارسال کیا جاتا ہے۔

شنائر نے لکھا ہے کہ اس کے علاوہ ہیکر مختلف اقسام کے ڈی ڈوس کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ ڈیجیٹل کمپنیاں کس نوعیت کے دفاعی نظام استعمال کر رہی ہیں۔

Image caption 31 دسمبر 2015 کو بی بی سی کو بھی ڈی ڈوس حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا

شنائر کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہیکر کسی کمزوری یا رخنے کی تلاش میں ہیں۔

’کوئی ان کلیدی کمپنیوں کی دفاعی صلاحیتوں کی بڑے پیمانے پر پڑتال کر رہا ہے جو انٹرنیٹ کی بنیادی سروس فراہم کرتی ہیں۔‘

شنائر نے ان کمپینوں کی نشان دہی نہیں کی کیونکہ ان کی خدمات ان کمپنیوں کے نام صیغۂ راز میں رکھے جانے کی شرط پر حاصل کی گئی تھیں۔

نیٹ کمپنی ویری سائن کی ایک حالیہ رپورٹ سے شنائر کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کمپنی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈی ڈوس حملے ’زیادہ متواتر، زیادہ پےدرپے اور زیادہ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔‘

ایک اور سکیورٹی ادارے آربر نیٹ ورکس کا کہنا ہے کہ ڈی ڈوس حملے ’تعداد، حجم اور پیچیدگی‘ میں بڑھتے جا رہے ہیں۔

تاہم آربر کے مرکزی انجینیئر رولینڈ ڈابنز کہتے ہیں کہ یہ بات ’واضح طور پر‘ غلط ہے کہ ان حملوں کے پیچھے صرف ملکوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

’بعض حملہ آوروں کو ملکوں کی سرپرستی حاصل ہے، کچھ غیر سرکاری نظریاتی حملہ آور ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو مجرمانہ طور پر مالی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں