’جاپان میں آتش فشاں سے تباہ کاری کا خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Kyodo NewsAP

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جاپان کا سب سے متحرک آتش فشاں ساکوراجیما اگلے 30 سال میں زبردست شدت سے پھٹ سکتا ہے۔

ساکوراجیما میں اکٹھے ہونے والے میگما کا جائزہ لینے والے برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جاپان کے کیوشو جزیرے میں واقع آتش فشاں ایک بڑھتے ہوئے خطرے کی شکل اختیار کررہا ہے۔

یہ آتش فشاں سینڈائی نیوکلیئر پلانٹ سے 49 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور 6 لاکھ آبادی والے شہر کاگوشیما سے بھی زیادہ دور نہیں۔

آتش فشاں ساکوراجیما آخری بار 1914 میں پھٹا تھا جس کے نتیجے میں 58 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جاپانی بحر الجزائر میں 100 سے زائد آتش فشاں واقع ہیں۔ ساکوراجیما آتش فشاں سے مسلسل راکھ باہر آتی رہتی ہے اور ہر سال یہاں کئی چھوٹے چھوٹے دھماکے بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح کا آخری دھماکہ اس سال فروری میں ہوا تھا۔

Image caption ساکوراجیما چھ لاکھ آبادی والے شہر کاگوشیما سے زیادہ دور نہیں ہے۔

جاپانی حکام اس پر گہری نظر رکھتے ہیں اور یہ جاپان کے اس وارننگ سسٹم میں تیسرے درجے کا آتش فشاں مانا جاتا ہے جس کا سب سے اونچا درجہ پانچ ہے۔

ریسرچ پراجیکٹ کی قیادت کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر جیمز ہِکی کا کہنا ہے 1914 میں پھٹنے والا آتش فشاں ڈیڑھ کلومیٹر بڑا تھا۔

’پراجیکٹ کے دوران جمع ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ 130 سال میں میگما کی اتنی مقدار اکٹھا ہو جاتی ہے جس سے اسی نوعیت کی تباہی ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس سے تقریباً 25 سال دور ہیں۔‘

جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں انخلاء کا ایک نیا منصوبہ پہلے ہی تیار کر لیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات