مچھلیاں پکڑنے والے قدیم ترین کانٹے دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ National Academy of Sciences
Image caption ماہی گیری دنیا بھر میں ابتدائی دور سے ہی اہم رہی ہے

ماہر آثار قدیمہ نے جاپانی جزیرے اوکناوا کی ایک غار سے دنیا کے قدیم ترین مچھلیاں پکڑنے والے کانٹے دریافت کیے ہیں۔

یہ کانٹے تقریباً 23000 سال پرانا ہے۔ پی این اے ایس کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کانٹوں کی یہ جوڑی سمندری سیپی کو تراش کر بنائے گئے تھے اور اس کے ساتھ دیگر قدیم باقیات بھی ملی ہیں۔

یہ خیال کیا جارہا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود اس جزیرے پر انسانی آبادی کم از کم 30 ہزار سال سے یہاں مقیم رہی ہے۔

حالیہ دریافت سے یہ امر بھی سامنے آتا ہے کہ اس قدیم دور میں سمندری ٹیکنالوجی کا استعمال کہیں بہتر تھا۔

جدید انسان پہلی بار ان جزائر پر 50 ہزار سال قبل آباد ہوئے تھے۔

ماہی گیری دنیا بھر میں ابتدائی دور کے انسانوں کے لیے اہم رہی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس سے منسلک ٹیکنالوجی کیسے پروان چڑھی، اس حوالے سے انڈونیشیا اور پاپوا نیوگینی میں محدود شواہد ملتے ہیں۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق ’نئے شواہد ابتدائی دور میں جغرافیائی لحاظ سے پھیلی ہوئی سمندری ٹیکنالوجی کو ظاہر کرتے ہیں جو شمال سے لے کر مغربی بحر اوقیانوس کی ساحلی پٹی میں وسطی عرض بلد تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ‘

جزیرہ تیمور سے ملنے والے مچھلی پکڑنے والے کانٹوں کے بارے میں خیال تھا کہ یہ کم از کم 16000 سال پرانے ہیں جبکہ پاپوا نیوگینی میں 18000 سال پرانے کانٹے دریافت ہوئے تھے۔

جاپان کی جس غار سے یہ کانٹوں ملے ہیں وہاں سے کچھ اوزار، موتی اور کھانے پینے کے سامان کی باقیات بھی ملی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں