انڈونیشیا میں سانس لینا دشوار، سالانہ ایک لاکھ اموات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈونیشیا میں ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ برس جنگلات میں لگائی جانے والی آگ سے پیدا ہونے والے دھوئیں سے وقت سے پہلے ایک لاکھ اموات واقع ہوئیں۔

ہاورڈ اور کولمبیا یونیورسٹیز کی اس تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ ان اموات میں سے 90 فیصد انڈونیشیا اور باقی سنگاپور اورملائشیا میں ہوئیں۔

جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں جنگلات اور گھاس پھونس کو فصلوں کے لیے صاف کرنے کے لیے لگائی جانے والی آگ سے ہر سال فضا میں آلودگی پھیلتی ہے۔

جنگلات کی آگ سے لگنے والا دھواں خطے کے ملکوں میں پھیلتا ہے۔ سنہ 2015 میں یہ دھواں کئی ماہ تک فضا میں رہا۔

یہ تحقیق جو ایک سائنسی جریدے میں شائع کی جائے گی اس میں سٹلائیٹ سے حاصل شدہ ڈیٹا استعمال کیا گیا اور اس کے ذریعے صحت پر پڑنے والے اثرات کا کمپیوٹر ماڈلنگ کی مدد سے اندازہ لگایا گیا۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فضائی آلودگی یا دھوئیں سے ہلاکتوں کا خطرہ 26,000 سے 174,300 اموات میں موجود ہے جس کی اوسط 100,300 بنتی ہے۔

اس تحقیق میں صرف عمررسیدہ افراد کی صحت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا باوجود اس کے بچوں کی اموات کے بارے میں بھی بہت سی رپورٹس اسی چیز کی نشاندہی کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پی ایم 2.5 ذرات جو دھوئیں میں ہوتے ہیں وہ سانس لیتے وقت پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔

انڈونیشیا میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کی آگ جو سنہ 1997 کے بعد سے بدترین آگ تھی اس میں 19 افراد ہلاک ہو گئِے تھے جن میں آگ بجھانے والے عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔

لیکن انڈونیشیا کے بحران سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق چار کروڑ تیس لاکھ افراد دھوئیں سے متاثر ہوئے اور پانچ لاکھ سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔ جنگلات میں لگائی جانے والی آگ کا معاشی نقصان اس کے علاوہ ہے۔

ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے اس تحقیق سے اخذ کیے گئے نتائج میں خامیوں کے باوجود یہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔

گرین پیس انڈونیشیا کے ایک کارکن یوین اندرادی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اگر صورت حال تبدیل نہیں ہوتی تو یہ ہلاکت خیز دھواں ہر سال تباہی پھیلاتا رہے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ انسانی جانوں کے زیاں کو روکنے میں ناکامی کسی جرم سے کم نہیں ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں