موٹر سائیکلوں پر مثانے کے کینسر کے بارے میں آگاہی مہم

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ملک بھر سے سینکڑوں موٹر سائیکل سواروں نے اتوار کو مثانے کے کینسر کے علاج کی تحقیق کے لیے فنڈز جمع کرنے اور اس بیماری کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لیے ریلی کا انعقاد کیا۔

اتوار کو اس مرض کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان ریلیوں کا انعقاد کیا گیا جسے ’ڈسٹنگوئشڈ جینٹلمینز رائڈ‘ (Distinguished Gentlemen Ride) کا نام دیا گیا ہے۔

پاکستان بھر سے اِن ریلیوں میں کل 334 موٹر سائیکل سواروں نے حصہ لیا اور11789 ڈالرز جمع کیے۔

جمع کی جانے والی یہ رقم کینیڈا میں قائم مثانے کے کینسر کی تحقیق کے منصوبے کے لیے عطیہ کی جائے گی۔ یہ تحقیق ڈاکٹر کرسٹوفر اونگ کی سربراہی میں کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ مثانے کا کینسر مردوں میں جلد کے کینسر کے بعد سب سے زیادہ ہونے والا مرض ہے۔

چند مغربی ممالک میں اِس مرض کے باعث ہلاک ہونے والے مردوں کی تعداد اُن عورتوں سے زیادہ ہے جو چھاتی کے سرطان کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔

گذشتہ سال 79 ممالک کے چار سو دس شہروں میں 37 ہزار شرکا نے مثانے کے کینسر کے علاج کے سلسلے میں کی جانے والی تحقیق کے لیے کُل 23 لاکھ ڈالر جمع کیے تھے۔

رواں سال کا ہدف 50 لاکھ ڈالرز ہے لیکن اب تک صرف 31 لاکھ 83 ہزار نو سو 70 ڈالرز جمع ہوئے ہیں۔ تاہم یہ ہدف اکتوبر کے آخر تک پورا کیا جاسکتا ہے۔

عطیہ کرنے کے خواہشمند افراد متعلقہ ویب سائٹ پر جاکر اپنے عطیات دے سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں اتوار کو ہونے والی ریلی کی خاص بات اِس میں مردوں کے ساتھ ساتھ چند خواتین کی شرکت بھی تھی۔

ان خواتین میں شامل بیا خود موٹر سائیکل چلا رہی تھیں اور ان کے ساتھ عنبر بھی موجود تھیں۔

یہ دونوں خواتین آگاہی پھیلانے کے اِس مقصد کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی باور کرانا چاہتی ہیں کہ خواتین ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں، چاہے وہ ’ڈسٹنگوشڈ جینٹلمینز رائڈ‘ ہی کیوں نہ ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں