سام سنگ نوٹ 7 کی دوبارہ فروخت شروع ہونے میں تاخیر

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی موبائل کمپنی سام سنگ نے کہا ہے کہ اس نے گلیکسی نوٹ سیون سمارٹ فون کی دوبارہ فروخت شروع کرنے میں تاخیر کا فیصلہ کیا ہے۔

سام سنگ کے مطابق اسے عالمی منڈیوں سے اس ماڈل کے 25 لاکھ فونز کو واپس منگوانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

٭ سام سنگ: نوٹ 7 کی چارجنگ محدود کرنے کا فیصلہ

٭ ’گلیکسی نوٹ سیون تبدیل کر لیں یا استعمال نہ کریں‘

نوٹ سیون کی بیٹریوں میں خرابی کے باعث کمپنی نے اسے واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس ماڈل کے بعض فونز کی بیٹری چارج ہونے کے دوران یا اس کے بعد پھٹ گئی تھیں اور ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد کمپنی نے فون کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا

رواں ماہ ہی سام سنگ نے نوٹ سیون کی بیٹریوں کے چارج ہونے کی صلاحیت 60 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اب نوٹ سیون جنوبی کوریا میں فروخت کے لیے 28 ستمبر کو بھیجا جائے گا تاہم توقع ہے کہ صارفین کو یہ یکم اکتوبر کو ہی دستیاب ہو سکے گا۔

دو ستمبر کو سام سنگ نے نوٹ سیون فون کی فروخت روکنے کا اعلان کرتے ہوئے پہلے سے فروخت ہونے والے فون واپس کر کے نئے حاصل کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اس کے علاوہ نوٹ سیون کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دنیا بھر میں 25 لاکھ فون اس واپسی سے متاثر ہوں گے

عالمی سطح پر فون واپس منگوانے سے سام سنگ کی 10 منڈیاں متاثر ہوئی ہیں۔ جنوبی کوریا میں پہلے ہی دو لاکھ صارفین فون واپس کر چکے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کے بعد نوٹ سیون اکتوبر میں آسٹریلیا اور سنگاپور میں دوبارہ فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

برطانیہ میں سام سنگ نے 19 ستمبر سے فون بدلنے کا اعلان کیا ہے اور صارفین سے کہا ہے کہ وہ ان دکانداروں سے رابطہ کریں جہاں سے انھوں نے فون خریدے ہیں۔

حالیہ دنوں میں نوٹ سیون کے پھٹنے کے مزید واقعات سامنے آئے ہیں۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق بروکلین میں ایک چھ سال کے بچے کا ہاتھ اس وقت جل گيا جب فون اس کے ہاتھ میں پھٹ گيا۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا اور اب وہ بہتر ہے۔

فلوریڈا میں ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا فون جیپ میں چارج ہونے کے دوران پھٹ گیا جس سے جیپ میں آگ لگ گئی۔

اس کے بعد امریکی حکام نے فضائی مسافروں کو تنبیہ کی ہے کہ سام سنگ کا نیا موبائل فون گلیکسی نوٹ سیون نہ تو دورانِ پرواز چارج کیا جائے اور نہ ہی اُسے آن کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں