مشتری کے برفیلے چاند سے ’پانی کے فوارے نکلتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption یوروپا کی سطح سے نیچے بڑی مقدار میں پانی موجود ہے

سائنسدانوں کو ایسے مزید شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سیارہ مشتری کا برفیلا چاند یوروپا خلا میں پانی کے فوارے چھوڑتا رہتا ہے۔

سائنس دانوں نے 2013 میں پہلی بار ہبل خلائی دوربین استعمال کرتے ہوئے اس بارے میں بتایا تھا لیکن اب اسی امر کا ایک بار پھر مشاہدہ کیا گیا ہے۔

یہ دریافت اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یوروپا پر کافی مقدار میں پانی مائع حالت میں موجود ہے، اس لیے امکان ہے کہ وہاں پر کسی قسم کی زندگی پائی جاتی ہو۔

ان پانی کے فواروں کے آس پاس کسی خلائی گاڑی کو اڑا کر وہاں زندگي کے امکان کا بہتر طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس پانی کے نمونوں کی جانچ پڑتال سے مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں، یا پھر مستقبل کے کسی خلائی مشن میں اس پانی کو تفصیلی معائنے کے لیے زمین پر بھی لایا جا سکتا ہے۔

یوروپا کی سطح منجمد ہے اور کئی کلومیٹر گہری برف کی تہہ کے نیچے پانی کا سمندر موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تہہ کی کھدائی کر کے نیچے سے پانی نکالنا خاصا مشکل ہے، لیکن سطح سے اچھلتے فواروں سے پانی کے نمونے حاصل کرنا نسبتاً آسان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nasa
Image caption اسی عشرے کی ابتدا میں ہبل نے یوروپا کی سطح پر اسی جگہ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مشاہدہ کیا تھا، جن سے مل کر پانی بنتا ہے

اس دوربین نے بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ مشتری کی سطح سے منعکس ہونے والی روشنی کسی طریقے سے یوروپا میں جذب تو نہیں ہو رہی۔

ہبل نے دیکھا کہ بعض اوقات یوروپا کے کونوں سے’تاریک انگلیاں‘ باہر نکل جاتی ہیں۔

ماہرِ فلکیات ولیم سپارکس کہتے ہیں کہ اس کی ایک ہی وضاحت ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ یوروپا کی سطح سے پانی کے بخارات نکل کر فضا میں بلند ہو رہے ہیں۔

’ہم محتاط ہیں کیوں کہ ہم ہبل کی مشکل ویو لینتھ کی مدد سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم ان بخارات کی موجودگی کا دعویٰ نہیں کر رہے، صرف اتنا کہتے ہیں کہ ایسی سرگرمی موجود ہو سکتی ہے۔‘

تاہم اسی عشرے کی ابتدا میں ہبل نے یوروپا کی سطح پر اسی جگہ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مشاہدہ کیا تھا، جن سے مل کر پانی بنتا ہے۔

ہبل کی سینیئر سائنس دان جینیفر وائزمین کہتی ہیں کہ یہ بہت دلچسپ دریافت ہے۔

’اس سے پہلے ہبل نے سپیکٹروسکوپی کی مدد سے آکسیجن اور ہائیڈروجن کی موجودگی دریافت کی تھی۔ اب سپارکس اور ان کی ٹیم نے بصری طور پر فوارے اٹھتے دیکھے ہیں۔ اس لیے دو مختلف پہلو ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔ اور ان سے بظاہر یوروپا کی سطح پر پانی کے فواروں کی موجودگی کی شہادت ملتی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں