نئے طریقہ کار سے ’تین افراد کے پہلے بچے‘ کی پیدائش

تصویر کے کاپی رائٹ NEW HOPE FERTILITY CENTRE
Image caption ڈاکٹر جان زانگ اور ان کے ساتھیوں نے اس طریقہ کار کے تحت پانچ جنین تیار کیے تھے لیکن اس میں صرف ایک ہی جنین صحیح طرح سے ڈیویلپ ہوپایا

نیو سائنٹسٹ میگزین کے مطابق تین افراد کے جینیاتی مادے پر مشتمل دنیا کے اس پہلے بچے کی پیدائش ہوگئی ہے جس میں نئی تولیدی تکنیک کا استعمال کیا گيا ہے۔

پانچ ماہ کے اس بچے میں حسب معمول ماں اور باپ کا ڈی این اے تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی ڈونر کا تھوڑا سا جینیاتی کوڈ بھی اس میں موجود ہے۔

بچے کی ماں کا تعلق اردن سے ہے جن کی جینز میں بعض نقائص تھے اور وہ خامیاں بچے میں منتقل نہ ہونے پائیں اس کو یقینی بنانے کے لیے امریکی ڈاکٹروں نے بے مثال اقدامات کیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طب کی دنیا میں یہ ایک ایسا نیا قدم ہے جو ان خاندانوں کے لیے بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے جن کے جینیات میں لاعلاج قسم کے نقائص موجود ہوں۔ تاہم انھوں نے یہ بھی حبردار کیا ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کی سخت چیکنگ ضروری ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ سائنس دانوں نے پہلی بار کسی ایسے بچے کی پیدائش ممکن بنائی ہو جس میں تین افراد کا ڈی این اے موجود ہے، اس پر کام تو سنہ 1990 کے اواخر میں ہی شروع ہوگیا تھا لیکن اس نئے بچے کی پیدائش میں بالکل مختلف اور بہت اہم طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔

بعض خواتین کی مائٹوکونڈریا میں جینیاتی نقائص پائے جاتے ہیں اور وہ نقائص پھر ماں سے بچے میں بھی منتقل ہوجاتے ہیں جس سے وہی مہلک بیماری بچے میں بھی ہوجاتی ہے۔

اردن کی ان مذکورہ خاتون میں جو نقص تھا اسے لیہ سنڈروم کہا جاتا ہے جو حمل میں کسی بھی بچے کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ فیملی چار بار حمل ختم ہونے کی تکلیف پہلے ہی جھیل چکی تھی جبکہ ان کے دو بچے پیدائش کے بعد، ایک آٹھ ماہ کا جبکہ دوسرا چھ برس کا فوت ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اس طریقہ کار میں جدید ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی تکنیک کے ذریعے ماں اور باپ کے ڈی این اے کو ایک عطیہ دینے والی خاتون کے صحت مند مائٹو کونڈریا سے جوڑا جاتا ہے

اس طریقہ کار میں جدید ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی تکنیک کے ذریعے ماں اور باپ کے ڈی این اے کو ایک عطیہ دینے والی خاتون کے صحت مند مائٹو کونڈریا سے جوڑا جاتا ہے۔

امریکی ڈاکٹروں کی ٹیم اس کے لیے میکسکو گئی تھی کیونکہ وہاں پر ایسے طبی آپریشن پر پابندی کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔

ان ڈاکٹروں نے اسی طریقہ کار کا استعمال کیا جس میں ڈی این کا اہم حصہ تو ماں کے انڈے سے لیا گيا لیکن ایک صحت مند انڈے کی تخلیق کے لیے مائٹوکونڈریا عطیہ کرنے والی صحت مند خاتون کے انڈے سے حاصل کیا گیا اور پھر اسے باپ کے تولیدی مادے سے ملا گيا۔

تیجتاً جو بچہ پیدا ہوا اس میں عطیہ دینے والی خاتون کا محض 0.1 فیصد ڈی این اے موجود ہوتا ہے جبکہ بالوں اور آنکھوں کے رنگ وغیرہ کے بیشتر جینیاتی کوڈ ماں اور باپ کے ڈی این اے پر مشتمل ہوتے ہیں۔

نیو یارک میں نیو ہوپ فرٹیلٹی سینٹر کے ڈاکٹر جان زانگ اور ان کے ساتھیوں نے اس طریقہ کار کے تحت پانچ جنین تیار کیے تھے لیکن اس میں صرف ایک ہی جنین صحیح طرح سے نمو ہوپایا۔

برطانیہ نے اس طریقے پر تین افراد کے تولیدی مادے سے بچہ پیدا کرنے کے قانون گذشتہ برس ہی منظور کر لیا تھا۔ لیکن اس میں بعض اخلاقی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ جو بچہ اس طریقے سے پیدا ہوگا وہ مستقبل میں یہ بات بھی سوچ سکتا ہے کہ اس میں تین افراد کا ڈی این اے موجود ہے۔

لیکن تولیدی عمل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ بہت سے لوگوں میں جینیاتی نقائص پائے جاتے ہیں اس لیے ان کی مدد کے لیے یہ طریقہ بہت اہم ہے لیکن اس میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں