170 سال بعد دس امریکی فوجیوں کی باقیات کی واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ ان کی کھوپڑیوں اور ہڈیوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق امریکہ سے تھا

میکسیکو کے خلاف جنگ میں شریک دس امریکی فوجیوں کی باقیات ان کی ہلاکت کے170 سال بعد امریکہ کو واپس کر دی ہیں۔

ایسا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فوجی سنہ 1846 میں میکسیکو میں مونٹیری جنگ میں رضاکارانہ طور پر شریک ہوئے تھے۔

یہ لڑائی دو سال تک جاری رہنے والی جنگ میں کافی اہمیت رکھتی ہے جس کی وجہ سے ایک بڑا علاقہ امریکہ میں شامل ہوگیا تھا۔

ان فوجیوں کی باقیات ڈیلاویر میں قائم امریکی فضائیہ کے اڈے روانہ کر دی گئی ہیں اور انھیں مشاہدے کے لیے سائنسدانوں کے حوالے کیا جائے گا۔

ماہرین بشریات کو امید ہے کہ وہ ان فوجیوں کی ہڈیوں کے ذریعے یہ معلوم کر سکیں گے کہ ان فوجیوں کا تعلق کہاں سے تھا اور وہ کیسے ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والے ان فوجیوں کی باقیات سنہ 2011 میں شمالی میکسیکو کے شہر مونٹیری میں تعمیراتی کام کے دوران ملی تھیں۔

کھدائی کا عمل سنہ 1995 میں شروع کیا گیا اور یہ باقیات اسی علاقے سے ملی ہیں جہاں سے چند دیگر باقیات بھی دریافت کی گئی تھیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ ان کی کھوپڑیوں اور ہڈیوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق امریکہ سے تھا۔

اسی مقام سے ملنے والی دیگر اشیا میں دو نصف امریکی ڈالر کے سکے بھی شامل ہیں۔

میکسیکو اور امریکہ کے درمیان جنگ سنہ 1846 سے 1848 تک جاری رہی تھی۔ اس جنگ کے نتیجے میں میکسیکو اپنا آدھا علاقہ ہار گیا تھا جو بعد میں ایریزونا، کیلیفورنیا، کولوراڈو، نیواڈا، نیو میکسیکو، اوٹا اور ویومنگ بنا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں