http://www.bbc.com/urdu/

بچے تند مزاج کیوں ہوجاتے ہیں؟

ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جو مائیں بچے کی پیدائش سےقبل خود پریشانی یا ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کا شکار رہتی ہیں ان کے بچے زیادہ تند مزاج اور جارحانہ ہوتے ہیں۔

کارڈف یونیورسٹی کے محقیقین نے لندن کے جنوبی علاقے کے ایک سو بائیس خاندانوں کے گیارہ برس تک کے بچوں پر تحقیق کے بعد کہا ہے کہ وہ لڑکے جن کی مائیں پیدائش کے تین ماہ بعد تک پریشانی یا ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کا شکار رہیں، ان کے بارے میں اس بات کا امکان زیادہ رہا کہ وہ لڑائی بھڑائی میں پڑجائیں اور اس بناء پر اسکول سے معطل کئے جائیں۔

جریدے ’ڈیولپمینٹل سائیکالوجی‘ (ترقیاتی نفسیات) میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کارڈف کے محقیقین کا کہنا ہے کہ جن بچوں کی مائیں مسلسل ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کے دوروں کا شکار رہیں، ان کے بچوں کے بدسلوک ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے لئے حاملہ ماؤں، بچے کی پیدائش کے تین ماہ بعد کی ماؤں اور ایک برس، چار برس اور گیارہ برس کی عمر کے بچوں سے کی جانے والی گفتگو اور ان کے رویّے کا مطالعہ کیا گیا۔

جن بچوں کا مطالعہ کیا گیا ان میں سے زیادہ تر تو مشتعل مزاج نہیں تھے مگر جن بچوں کے ساتھ رویّے کا مسئلہ رہا وہ زیادہ تر لڑکے تھے، ایسے لڑکے جن کی مائیں پریشانی یا ذہنی دباؤ کا شکار رہیں۔

تحقیق کے مطابق جذبات پر قابو پانے میں ناکامی اور عدم توجہی بچوں کی اس بدسلوکی کی وجوہات بنتی ہیں۔

تاہم محقیقین بچوں کی بدسلوکی کو بچے کی پیدائش سےقبل ماؤں کی پریشانی یا ذہنی دباؤ کا شکار رہنے سے تعلق کو جوڑنے میں کسی ایک خاص وجہ پر متفق نہیں ہیں۔

تحقیق سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ جو مائیں بچے کی پیدائش سےقبل بے چین رہتی ہیں ان کے ایسے لڑکے پیدا ہوتے ہیں جو پانچ برس کی عمر میں رویّے اور سلوک سے متعلق مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔