BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 November, 2006, 23:34 GMT 04:34 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سنسکرت کے قدیم نسخے، ڈیجیٹل بحالی
 
پتوں کی تصویر کی پروسیسنگ کے بعد تحریر زیادہ آسانی سے پڑھی جاتی ہیں
امریکی سائنسدان جدید ڈیجیٹل امیجنگ تکنیک کے استعمال سے ہندو فلسفہ کی ایک نایاب تحریر ’سرومول گرنتھ‘ کو محفوظ کر رہے ہیں۔یہ سات سو سالہ پرانی تحریر پام کے درخت کے پتوں پر لکھی گئی تھی۔

نیو یارک کے راچیسٹر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا عملہ ’سرومول گرنتھ‘ پر کام کر رہا ہے۔ یہ تحریر ہندو فلسفہ کی روح جس کا تعلق زندگی کے مفہوم اور اس میں خدا کے مقام کے بارے میں ہے۔

چھتیس نسخوں پر مبنی ’سرومول گرنتھ‘انڈیا کے بڑے مذہبی عالموں میں سے ایک شری مادھواچاریہ کی تحریر تھی۔

یہ نسخے ہندو مذہب کی مقدس کتابوں پر مبنی ہیں۔ اس میں روز مرہ کے معمولات اور خدا کی تعریف میں نظمیں بھی ہیں۔

راچیسٹر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر پی آر مکند اور ان کے ساتھی راجر ایسٹن اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

پروفیسر مکند کے مطابق شری مادواچاریہ کی تحریر نے معاشرے پر بڑےگہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ’مستقبل کے لیے ان نسخوں کو سنبھالنا ضروری ہے‘۔

تحریر والے بہت سارے پتے خستہ حالت میں ہونے کے باعث ان پتوں کو بغیر نقصان پہنچائے ان پر کام کرنا بہت مشکل ہے۔ جلد سازی سے بھی پتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ غیر مناسب دیکھ بھال کے باعث پتے پھٹنے لگیں ہیں اور پتوں پر داغ ہیں۔ پتے ایک دوسرے سے چپکتے بھی ہیں اور اس سے انہیں مزید نقصان پہنچتا ہے۔’صدیوں کے سفر میں پتوں کا رنگ اور گہرا ہوگیا ہے اوران پر تحریر پڑھنے میں دشورای پیش آتی ہے‘۔

سب سے پہلے پتوں کی تصویریں لی جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہر پتے کی تصویر پانچ یا چھ حصوں میں لی جاتی ہے۔ ان حصوں کی تصویریں کو پھر ملایا جاتا ہے۔تصاویر کی پروسیسنگ کے بعد تحریر زیادہ آسانی سے پڑھی جاتی ہیں۔

شری مادھواچاریہ کے تحریر کے علاوہ یہ ٹیم آٹھ سو اور پال کے پتوں پر لکھی گئی تحریروں کی ایمیجنگ کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کام کرنے کے لیے مزید مالی وسائل کی ضرورت ہو گی۔

پروفیسر مکند کے مطابق: ’اگلے تین سالوں میں ہمیں ہر سال ایک لاکھ ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ ہم نے منصوبہ شروع کر لیا ہے لیکن عملہ کی تنخواہ اور سیلیکون پروسیسنگ کے اخراجات کے لیے ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے‘۔

 
 
اسی بارے میں
2005 ’ڈیجیٹل شہری‘ کا سال
02 January, 2006 | نیٹ سائنس
پومپیائی کی ڈیجیٹل تصویر
01 November, 2004 | نیٹ سائنس
سینما بھی ڈیجیٹل ہو گیا
20 August, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد