BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 23 February, 2007, 15:09 GMT 20:09 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
اسلامی تعمیر میں جدید جیومیٹری؟
 
اسلامی فنِ تعمیر
قرونِ وسطیٰ کے کاریگروں کو ریاضی کے مشکل ترین فارمولوں پر عبور حاصل تھا
قرونِ وسطیٰ کے اسلامی فنِ تعمیر کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس وقت کی عمارتوں میں نقش نگاری کے دوران جیومیٹری کے ایسے اصولوں کا استعمال کیا گیا تھا جو مغربی ریاضی دانوں بظاہر کئی صدیوں کے بعد نے دریافت کیئے۔

اس تحقیق کو ’سائنس‘ نامی جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔

محققین کو پندرہویں صدی کی اسلامی تعمیرات میں ایے شواہد ملی ہیں جن میں جیومیٹری کی جدید شاخ ’کواسی کرسٹلائن جیومیٹری (Quasicrystalline Geometry)‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔

کواسی کرسٹل ایسی شکلوں کو کہا جاتا ہے جو بظاہر تو جانی مانی شکلوں کی طرح نظر آتی ہیں لیکن ریاضی کے اصولوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے ان شکلوں کی منطقی ترکیب کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے کاریگروں کو ریاضی کے مشکل ترین فارمولوں پر عبور حاصل تھا۔

صدیوں کا فرق
محقق پیٹر لُو (بائیں)
 ’وہ لوگ اس زمانے میں ریاضی کے ان اصولوں پر اتنی عمدہ ٹائلیں بناتے تھے جن اصولوں سے ہم بیس یا بائیس سال پہلے تک بالکل ناواقف تھے
 
پیٹر لُو، امریکی محقق

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سن 1200 تک اسلامی ریاضی اور فنِ تعمیر میں اہم تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے محقق پیٹر لُو کی اسلامی آرٹ میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب ازبکستان کے دورے پر انہوں نے ایک سولہویں صدی کی اسلامی عمارت میں دس ضلعی ڈیزائن کی ٹائلیں لگی ہوئی دیکھیں۔

پیٹر لُو نے اسلامی فنِ تعمیر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’وہ لوگ اس زمانے میں ریاضی کے ان اصولوں پر اتنی عمدہ ٹائلیں بناتے تھے جن اصولوں سے ہم بیس یا بائیس سال پہلے تک بالکل ناواقف تھے‘۔

اسلامی ڈیزائن میں ’کواسی کرسٹلائن جیومیٹری‘ کے تحت کثیرالاضلاعی شکلوں کا استعمال اس انداز میں کیا گیا ہے کہ ڈیزائن کو لامحدود حد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ فنِ تعمیر میں اس عمل کو ’گرہ‘ کی اصطلاح سے جانا جاتا ہے۔

اب تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ اسلامی ڈایزائن میں ستارے اور کثیرالاضلاعی شکلیں سیدھے پیمانوں اور قطب نماؤں کے ذریعے آڑھی ترچھی لکیروں کے کھینچنے کے بعد وجود میں آئیں۔

 
 
اسی بارے میں
سال کا اہم ترین سائنسی کارنامہ
22 December, 2006 | نیٹ سائنس
ارشمیدس کی ڈائری پڑھ لی گئی
15 August, 2006 | نیٹ سائنس
خلا میں قبلہ کس طرف ہوگا؟
23 April, 2006 | نیٹ سائنس
ریاضی میں زیادہ قابل کون
18 January, 2005 | نیٹ سائنس
ایس ایم ایس سے طلاق
22 August, 2003 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد