BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 February, 2008, 04:06 GMT 09:06 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سیارچے کی تباہی تو اِک بہانہ: روس
 
امریکی میزائل
مصنوعی سیارچے کو میزائل سے تباہ کیا جائے گا
روس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ بےقابو جاسوس مصنوعی سیارچے کو تباہ کرنے کی آڑ میں سیٹلائٹ شکن ہتھیار کا تجربہ کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران زمین سے ٹکرانے والے جاسوس سیارے کی تباہی کے لیے میزائل استعمال کرے گا جس کی منظوری
امریکی صدر جارج بش نے بھی دے دی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس سیارچے پر ایسا مواد موجود ہے جو اگر انسان سونگھ لے تو اس کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ’ امریکہ دوسرے مملاک کے مصنوعی سیاروں کو تباہ کرنے کے حوالے سے اپنے سیارچہ شکن میزائل نظام کا تجربہ کرنا چاہتا ہے‘۔

روسی حکام کے مطابق سیارچہ تباہ کرنے کا امریکی منصوبہ اتنا بےضرر نہیں جتنا کہ وہ بتا رہے ہیں اور خاص طور پر اس وقت جب امریکہ خلائی ہتھیاروں کی دوڑ پر بات کرنے کرنے سے کترا رہا ہے۔

روسی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بہت سے ممالک کے سیارچے زمین سے ٹکرا چکے ہیں اور بہت سے ملک اپنے خلائی جہازوں میں زیریلا اینھن استعمال کرتے ہیں لیکن اس سے قبل کبھی بھی اس قسم کے’غیر معمولی اقدامات‘ نہیں اٹھائے گئے۔

یاد رہے کہ نائب امریکی مشیر برائے قومی سلامتی جیمز جیفریز نے کہا تھا کہ ہر برس ہزاروں اشیا خلاء سے نکل کر زمین سے ٹکراتی ہیں لیکن یہ معاملہ اس لیے تھوڑا مختلف ہے کیونکہ جب یہ سیارچہ زمینی فضاء میں داخل ہوگا تو قریباً ساڑھے چار سو کلو ایندھن زہریلی گیس کی صورت میں خارج کرے گا۔

اس سیارچے میں ایئیرازائین نام کا ایندھن ہے یہ ایک ایسا بے رنگ مادہ ہے جو زد میں آنے والے انسان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ نو ہزار بہتر کلو گرام وزنی یہ مصنوعی سیارچہ ایک چھوٹی بس کے برابر ہے۔

 
 
اسی بارے میں
’سمارٹ ون‘ چاند سے ٹکرا گیا
03 September, 2006 | نیٹ سائنس
نگران مصنوعی سیارے روانہ
27 September, 2003 | نیٹ سائنس
گلیلیو سے پہلا سگنل موصول
14 January, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد