BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 05 January, 2009, 23:21 GMT 04:21 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ابن الہیثم: ’پہلے حقیقی سائنسدان‘
 

 
 
الحسن ابن الہیثم
الحسن ابن الہیثم کا تصوراتی خاکہ
سب اتفاق کریں گے کہ آئزک نیوٹن دنیا کے عظیم ترین ماہر طبعیات تھے۔ کم سے کم سکول میں ہمیں جو پڑھایا جاتا ہے اس کے مطابق وہ جدید بصری علوم کے بانی ضرور تھے۔ سکول کی کتابیں عدسوں اور منشور کے ساتھ ان کے مشہور تجربات، ان کی روشنی اور انعکاس اور انعطاف کے عمل پر تحقیق کی تفصیل سے بھری پڑی ہیں۔

لیکن حقیقت شاید کچھ مختلف ہے، میں یہ باور کروانا ضروری سمجھتا ہوں کہ بصری علوم کے میدان میں نیوٹن سے پہلے ایک اور بہت بڑی ہستی سات سو سال پہلے ہو گزری ہے۔ مغرب میں اکثر لوگوں نے ان کا نام کبھی نہیں سنا۔

بلا شبہہ ایک اور عظیم ماہر طبیعات جن کا رتبہ نیوٹن کے برابر ہے سن نو سو پینسٹھ عیسوی میں اس علاقے میں پیدا ہوئے جو اب عراق کا حصہ ہے۔ ان کا نام الحسن ابن الہیثم تھا۔

ابن الحیثم نے روشنی پر تجربات کیے
بحیثیت ماہر طبعیات میں خود اس شخص کی طبعیات کے میدان میں خدمات کا معتقد ہوں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ بی بی سی کے لیے قرون وسطیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کی زندگی پر پروگرام تیار کرتے ہوئے مجھے ابن الہیثم کی زندگی کا گہرا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قدیم یونان اور یورپ میں نشاط ثانیہ کے درمیان میں کوئی بڑی سائنسی پیش رفت نہیں ہوئی۔ لیکن صرف اس لیے کہ مغربی یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں دوسری جگہوں پر بھی کوئی کام نہیں ہو رہا تھا۔

نویں اور تیرہویں صدی کے درمیان کا عرصہ عرب سائنسدانوں کا سنہرا دور تھا۔ ریاضی، فلکیات، طب، طبعیات، کیمیا اور فلسفے کے میدان میں بہت کام کیا گیا۔ اس دور کے بڑے ناموں میں ابن الہیثم کا نام شاید سب سے روشن ہے۔

آنکھ کیسے دیکھتی ہے
 ابن الہیثم وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے درست طور پر بیان کیا کہ ہم چیزیں کیسے دیکھ پاتے ہیں۔ انہوں نے افلاطون اور کئی دوسرے ماہرین کے اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر اشیا پر پڑتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ روشنی ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات کو ریاضی کی مدد سے ثابت کیا جو پہلے کسی نے کبھی نہیں کیا تھا
 
ابن الہیثم کو جدید سائنسی ضابطۂ عمل کا بانی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ طریقۂ کار ہے جس کو سائنسدان معلومات کے حصول، معلومات کی درستگی، الگ الگ معلومات کو ملا کر نتیجہ اخذ کرنے اورمشاہدے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے سائنسدان اپنا کام کرتے ہیں اور یہی میرے سائنس پر اعتماد کی وجہ ہے۔

لیکن اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے جدید سائنسی طرز عمل سترہویں صدی کے اوائل میں فرانسس بیکن اور رینے ڈیکارٹ نے متعارف کروایا تھا۔ تاہم مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن الہیثم یہ منزل پہلے طے کر چکے تھے۔

پروفیسر جِم الخلیلی
ابن الہیثم وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے درست طور پر بیان کیا کہ ہم چیزیں کیسے دیکھ پاتے ہیں۔ انہوں نے افلاطون اور کئی دوسرے ماہرین کے اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر اشیا پر پڑتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ روشنی ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ریاضی کا سہارا لیا جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔

ابن الہیثم نے روشنی، انعکاس اور انعطاف کے عمل اور شعاؤں کے مشاہدے سے کہا کہ زمین کی فضا کی بلندی ایک سو کلومیٹر ہے۔

ابن ہیثم کو بھی ہر سائنسدان کی طرح اپنی دریافتوں کو تحریر کرنے کے لیے وقت اور تنہائی کی ضرورت تھی۔ انہیں یہ موقع بد قسمتی سے ملا۔ انہیں مصر میں دریائے نیل کے سیلاب کا سد باب کرنے میں ناکامی پر سن ایک ہزار گیارہ اور ایک ہزار اکیس کے بیچ میں پکڑ لیا گیا۔ انہوں نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کی بجائے سزا سے بچنے کے لیے پاگل پن کا ڈراما رچایا جس کے بعد انہیں دس سال کے لیے نظر بند کر دیا گیا۔

ابن الہیثم کو خلیفہ کی موت کے بعد رہائی ملی۔ وہ ان علاقوں میں واپس آ گئے جو اب عراق میں ہیں اور ریاضی اور طبعیات کے موضوعات پر ایک سو کے قریب مقالات تحریر کیے۔

بی بی سی کے لیے پروگرام کی تیاری کے دوران سکندریہ میں ایک ماہر سے بات ہوئی جنہوں نے ابن الہیثم کا فلکیات کے موضوع پر حال ہی میں دریافت ہونے والا ایک مقالہ دکھایا۔ ابن الہیثم نے معلوم ہوتا ہے سیاروں کے مدار کی وضاحت کی تھی جس کی بنیاد پر بعد میں کاپرنیکس، گیلیلیو، کیپلر اور نیوٹن جیسے یورپی سائنسدانوں نے کام کیا۔ کتنی غیر معمولی بات ہے کہ اب پتہ چل رہا ہے کہ آج کے ماہرین طبعیات پر ایک ہزار سال پہلے کے ایک عرب سائنسدان کا کتنا قرض ہے۔
(پروفیسر جم الخلیلی کا یہ پروگرام بی بی سی فور پر پانچ، بارہ اور انیس جنوری کو برطانیہ کے وقت رات نو بجے دکھایا جائے گا)۔

 
 
اسی بارے میں
’مسلم کار‘ کی تیاری کا اعلان
11 November, 2007 | نیٹ سائنس
خلا میں قبلہ کس طرف ہوگا؟
23 April, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد